سموسے پر 13.5 فیصد ٹیکس کا ’فیصلہ‘

Image caption این ڈی ٹی وی کے مطابق اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی سے ریاست کے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہو گی

اطلاعات کے مطابق بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست کی حکومت سموسوں کو ’پُرتعیش‘ قرار دے کر ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق بھارت کی شمالی ریاست بہار کی انتظامیہ نے عوامی سطح پر کھائے جانے والے سادہ سے کھانے کو اُن 23 اشیا کی فہرست میں شامل کیا ہے جن پر 13.5 فی صد ٹیکس لگایا جائے گا۔

فہرست میں موجود دیگر اشیا جنھیں وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی زیرِ صدارت اجلاس میں منظور کیا گیا تھا، میں مچھر مار دوا، سنگھار کا سامان اور 500 روپے فی کلو سے زائد قیمت والی تمام مٹھایاں شامل ہیں۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی سے ریاست کے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہو گی۔

ممبئی سے نکلنے والے ایک اخبار ’دا اکنامک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف اور ورلڈ بینک کی جانب سے قرار دی گئی ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست بہار، حکومت کی جانب سے سڑکوں، ریل، بجلی اور گیس کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے 1.65 کھرب روپے لاگت کے ترقیاتی پیکج حاصل کرنے کے عمل میں ہے۔

لیکن ریاستی حکومت مکمل طور پر ٹیکس آمدنی میں اضافے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس بات کے مظاہرے کے لیے اسی ریاست کے کابینہ اجلاس کے دوران عنقریب آنے والی بالی وڈ فلم چاک اینڈ ڈسٹر کو تفریحی ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فلم ممبئی کے ہائی سکول میں کام کرنے والے دو اساتذہ کے متعلق ہے۔ اور بہار کی کابینہ کا کہنا ہے کہ کابینہ اس کے ’مضبوط سماجی پیغام‘ کی حمایت کرتی ہے۔

اسی بارے میں