گائے کا گوشت رکھنے کے شبہےمیں مسلمان جوڑے پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں کئی ریاستوں نے گائے کے گوشت پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جسے ملک کی ہندو اکثریتی برادری مقدس جانور سمجھتی ہے

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ہندو تنظیم کے کچھ اراکین کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے گائے کے گوشت کے ساتھ سفر کرنے کے شبہے میں ایک مسلمان جوڑے پر حملے کیا تھا۔

گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل

کشمیر میں گائے کے گوشت پر نئی جنگ

پولیس کا کہنا تھا کہ مسلمان جوڑا ایک ٹرین پر سفر کر رہا تھا کہ ’گورکشہ سمیتی‘ نامی تنظیم کے کچھ اراکین نے اُن سے ان کا ایک تھیلا چھین لیا۔

مسلمان جوڑے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گائے کا گوشت نہیں لے جا رہے تھے۔

بھارت میں کئی ریاستوں نے گائے کے گوشت پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جسے ملک کی ہندو اکثریتی برادری مقدس جانور سمجھتی ہے۔

یہ واقعہ تب پیش آیا جب محمد حسین اور ان کی اہلیہ نسیمہ بانو مرکزی مدھیہ پردیش میں ایک ٹرین پر سفر کر کے کھڑکیا سٹیشن پہنچے۔

محمد حسین نے کہا کہ ’جب ٹرین سٹیشن پر پہنچی تو دس سے 15 لوگ ٹرین پر سوار ہوئے اور مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے لگے۔ انھوں نے کچھ مسافروں پر حملہ بھی کیا۔ انھوں نے ہمارے بیگ بھی چیک کیے اور میری بیوی پر بھی حملہ کیا۔‘

محمد حسین کا کہنا ہے کہ انھیں ’مدد کے لیے ہردہ شہر سے اپنے اہل خانہ کو بلانا پڑا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’گورکشہ سمیتی کے اراکین سب کے بیگ چیک کر رہے تھے۔ ہم نے پولیس تک جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہم یہاں ہردہ میں رہتے ہیں۔ دوسرے لوگوں نے چپ رہ کر سفر جاری رکھا۔‘

سینیئر پولیس افسر ہردہ رام بابو شرما نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ریلوے پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال بھارتی ریاست اترپردیش میں گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں ایک 50 سالہ شخص کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس واقعے میں ہلاک شدہ شخص کا 22 سالہ بیٹا شدید زخمی ہوا تھا۔

اسی بارے میں