ایران کی قید سے چار امریکی رہا، پابندیاں اٹھنے کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جیسن رضائیان کو گذشتہ سال جاسوسی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا

ایران نے امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت کے حامل چار قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس پر عائد اقتصادی پابندیاں جلد اٹھا لی جائیں گی۔

رہائی پانے والوں میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جیسن رضائیان بھی شامل ہیں جن کو گذشتہ سال جاسوسی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران اور یورپی یونین جوہری معاہدے پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے سنیچر کو ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

ان قیدیوں کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی تاہم ایران میں امریکی شہریت کے حامل صرف چار افراد کی زیر حراست ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ آج یعنی سنیچر کو ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

ویانا آمد کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا ’ آج کے دن ہم دنیا پر ثابت کر دیں گے کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور بات چیت سے مسائل حل ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ جوہری معاہدے پر ملاقات کے لیے ویانا میں موجود ہیں

جواد ظریف کا مزید کہنا تھا ’جوہری معاہدے پر ہماری جانب سے عمل درآمد بالکل واضح ہے، جوہری معاملے سے وابستہ تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور ایران ایک خوشگوار ماحول میں دنیا بھر سے اقتصادی تعاون کر سکے گا۔‘

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ جوہری معاہدے پر ملاقات کے لیے ویانا میں موجود ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اُس نے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے شرائط کو پورا کیا ہے ۔ اس لیے اب اُس پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں۔

پابندیاں اٹھانے کے بعد ایران اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے حاصل کر نے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل بھی فروخت کر سکے گا۔

جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد اُس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی جائےگي۔

عام طور پر یہی قیاس آرائی ہورہی ہے کہ ایران نے اس معاہدے سے متعلق اپنی شرائط پوری کر دی ہیں اور اب اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ایران نے معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے اس بارے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارہ آئی اے ای اے کی جانب سے اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے جیسن رضائیان کے علاوہ رہائی حاصل کرنے والے جن تین امریکی قیدیوں کے نام بتائے ہیں ان میں سابق میرین عامر حکمتی، پاسٹر سعید عبیدینی اور شاہ پہلوی کے دور کے ایک سیاستدان اور تاجر کے بیٹے سیامک نمازی شامل ہیں۔

خبررساں ادارے کے مطابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن سنہ 2007 میں ایران میں لاپتہ ہوگئے تھے، وہ سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہوئے ایک غیرمنظور شدہ مشن پر تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ انھیں رہائی کے حوالے سے امریکی حکام کے جانب سے مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایرانی خبررساں ادارے فارس کے مطابق رہا ہونے والی رضائیان، حکمتی اور عبیدینی شامل ہیں جبکہ چوتھے قیدی کا نام نہیں بتایا گیا۔

تہران میں پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری اور اسلامی جموریہ کے مفاد عامہ کے تحت دوہری شہریت کے حامل چار ایرانی قیدیوں کو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تناظر میں آج رہا کیا جاتا ہے۔،

فارس کے مطابق امریکہ ’بھی اقتصادی پابندیوں کے ضمن میں قید چھ ایرانی قیدیوں کو رہا کرے گا۔‘

اسی بارے میں