جوہری معاہدہ: ’ایران پر عائد پابندیاں آج اٹھا لی جائیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاہدے کے تحت جوہری صنعت میں تخفیف کے بدلے ایران پر سے بہت سی اقتصادی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ آج یعنی سنیچر کے روز ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

امریکہ، ایران اور یورپی یونین جوہری معاہدے پر اب تک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے سنیچر کو ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت کے حامل چار قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان قیدیوں کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی تاہم یہ اطلاعات ہیں کہ ان میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جیسن رضایان بھی شامل ہیں جن کو گذشتہ سال جاسوسی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

سنیچر کو ویانا آمد کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’ آج کے دن ہم دنیا پر ثابت کر دیں گے کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور بات چیت سے مسائل حل ہوتے ہیں۔‘

جواد ظریف کا مزید کہنا تھا کہ ’جوہری معاہدے پر ہماری جانب سے عمل درآمد بالکل واضح ہے، جوہری معاملے سے وابستہ تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور ایران ایک خوشگوار ماحول میں دنیا بھر سے اقتصادی تعاون کر سکے گا۔‘

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ جوہری معاہدے پر ملاقات کے لیے ویانا میں موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویانا میں یہ سہ فریقی بات چیت اس بات کا عندیہ ہے کہ اس معاہدے پر نفاذ قریب تر ہے اور اس سلسلے میں آئی اے ای اے اپنی رپورٹ سنیچر کو ہی پیش کرسکتا ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اُس نے جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے شرائط کو پورا کیا ہے ۔ اس لیے اب اُس پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں۔

پابندیاں اٹھانے کے بعد ایران اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے حاصل کر نے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل بھی فروخت کر سکے گا۔

جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد اُس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی جائےگي۔

عام طور پر یہی قیاس آرائی ہورہی ہے کہ ایران نے اس معاہدے سے متعلق اپنی شرائط پوری کر دی ہیں اور اب اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ایران نے معاہدے کی شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے اس بارے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارہ آئی اے ای اے کی جانب سے اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین میں خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرنی ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بات چیت کریں گے۔

امریکی دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد میں ’تمام فریق مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔‘

ویانا میں یہ سہ فریقی بات چیت اس بات کا عندیہ ہے کہ عملدرآمد کے حوالے سے آئی اے ای اے اپنی رپورٹ سنیچر کو ہی پیش کرسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ ’اس سے متعلق تمام تفصیلات پر کام ہوچکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جوہری معاہدہ کیا ہے

ایران نے جولائی 2015 میں چھ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد جوہری معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ختم ہوں گی۔

جوہری معاہدے کے تحت ایران اپنے سینٹری فیوجز میں کمی کرے گا اور ہیوی واٹر جوہری ری ایکٹر کو بند کر دے گا۔ ایران نے اس ہیوی واٹر ری ایکٹر کے مقاصد کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس کے بعد اسے جوہری ہتھیاروں بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے 2012 سے ایران پر عائد پابندیوں کے سبب ایران کو اقتصادی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے۔ خاص طور پر تیل کی آمدن میں اسے تقریبا 160 ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

اسی بارے میں