بھارت کے معدوم ہوتے پیشے

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption فن خطاطی کو اعلی فن میں شمار کیا جاتا تھا

بھارت میں صدیوں سے ایک نسل سے دوسری نسل میں خاندانی طور پر منتقل ہونے والے پیشے 21 ویں صدی کے جدید ہندوستان میں بے وقعت اور بے معنی ہو گئے ہیں۔

اپنی کتاب ’دا لوسٹ جنریشن‘ یعنی گمشدہ نسل میں ندھی دگر کندالیا نے بھارت میں معدوم ہونے والے پیشوں پر روشنی ڈالی ہے۔

پرانی دہلی کے کاتب یا خوش نویس

عہد مغل میں خوش نویسی کو ایک نیک اور متبرک پیشہ تصور کیا جاتا اور کاتبوں کو بادشاہوں، شہزادوں اور امرا میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

خوش خطی کو الوہیت کی معراج تصور کیا جاتا تھا اور اس کا فنکار خود کو بھی اس کے ساتھ بلند مرتب محسوس کرتا تھا۔

شاہی خاندان کے افراد اس فن کے بہترین استاد سے خوش خطی سیکھتے اور انھیں اپنے دربار میں باوقار مقام دیتے۔

وسیم احمد جو اردو، فارسی اور عربی کتابت کے استاد ہیں وہ 30 سال سے اس پیشے میں ہیں۔

Image caption خطاطی کو شاہی دربار میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا

ایک زمانے میں وہ کتابوں کی کتابت کرتے اور ہاتھ سے بے نقص اور لطیف ڈیزائن بناتے۔ اس کے بعد انھیں ناشروں کے پاس لے جایا جاتا اور پھر زیور طباعت سے آراستہ ہوکر وہ گھروں کی زینت بنتے کیونکہ لوگ انھیں نیک فال تصور کرتے۔

لیکن وسیم احمد کے ساتھ ان کے جیسوں کاتبوں کی سرپرستی بہت پہلے ختم ہوگئی اور خطاطی سے حاصل ہونے والے فوائد بھی۔

ان کے تابوت کی آخری کیل کمپیوٹر پر اردو فونٹس کا آنا ثابت ہوا جو اس سے قبل بہت مشکل تھے۔

راجستھان کی رودالی یا پیشہ ور نوحہ گر

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں اعلیٰ ذات کی خواتین سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان کا وقار عام لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار نہ کرنے میں ہے اس لیے ان کی جگہ رونے کے لیے نیچی ذات کی رودالیوں (نوحہ اور بین کرنے والی خواتین) کو بلایا جاتا ہے۔

جب کوئی بستر مرگ پر جاتا ہے تو راجستھان میں رودالیوں کو موت کی رسم کی ادائیگی کے لیے بلا لیا جاتا ہے۔

موت کے بعد رودالی کالے دوپٹے میں خواتین کے درمیان بیٹھ جاتیں اور رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتیں۔ سینہ کوبی کرتی ہیں زمین پر لوٹ پوٹ کر بین کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نوحہ گروں کی رسم بھی اب دم توڑتی نظر آتی ہے

بیوہ کا ہاتھ پکڑ کر وہ بہ آواز بلند روتی ہیں کہ ’ارے تھارو تو سہاگ گیو رے۔ اب اس دنیا میں تمہارے رہنے کی وجہ کیا ہے۔‘ اور پھر اپنا سینہ پیٹتی ہیں۔

یہ رسم موت کے بعد 12 دنوں تک جاری رہتی ہے۔ جتنے زیادہ دن سوگ منایا جاتا ہے اتنا ہی خوشحال وہ خاندان تصور کیا جاتا ہے اور جتنے زیادہ ڈرامے ہوتے ہیں ان کی پڑوسیوں میں اتنی ہی باتیں ہوتیں۔

لیکن اب تعلیم کی شرح میں اضافے اور نقل مکانی کے سبب لوگ خاموشی سے آخری رسوم ادا کرنے کے حق میں ہیں اور اس لیے رودالیوں کی وقعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

گجرات کے سڑک چھاپ دانت کے ڈاکٹر

بڑودہ کی ایم ایس یونیورسٹی کی عمارت کے باہر امرت سنگھ کا مسکین سا دفتر دھول سے اٹی گزرگاہ پر ہے۔

وہ ایک فٹ پاتھ پر اپنے دانت کے آلات کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی اینٹ اور گارے کی عمارت ہے نہ کوئی کرسی ہے اور نہ سرجیکل روشنیوں کی ہیڈلائٹس ہے۔

جب آپ ان کی دکان سے گزریں گے تو وہ آپ کو بہت ساری بڑی بڑی بیماریوں کے نام بھی نہیں بتائیں گے۔ مریض ایک بانس کی تپائی لے کر بیٹھ جاتا ہے اور امرت سنگھ اپنی پتلون پر اپنا ہاتھ صاف کرتے ہیں اور اپنے زنگ آلود الے سے مریض کے منھ سے درد چن لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ ایم ایس یونیورسٹی کے باہر کا منظر ہے

بھارت میں سڑک کے کنارے بیٹھے دانت کے ڈاکٹروں نے یہ ہنر زیادہ تر چینیوں سے سیکھے جو کہ 20ویں صدی کے اوائل میں بھارت میں روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں دانت کے ڈاکٹروں کے ضابطے نافذ کیے گئے اور سڑک چھاپ ڈاکٹری غیرقانونی قرار پائی لیکن پھر بھی یہ ملک کے بعض حصے میں پھلتی پھولتی رہی۔

لیکن بھارت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اب اپنے فٹ پاتھوں کو صاف کرنا چاہتا ہے اور یہ ڈاکٹر ان کے لیے خفت کا باعث ہیں۔

ہری دوار کے شجرہ رکھنے والے

ہری دوار کو ہندوؤں کا مکہ کہا جاتا ہے جہاں لوگ مرنا چاہتے ہیں اور یہاں بہت سے اہم مندر اور گرو رہتے ہیں جن کے عقیدت مند دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

موت کے بعد اہل خانہ سے کوئی مرد ہری دوار کا سفر کرتا ہے اور وہاں اپنے مردے کی راکھ کو مقدس دریا گنگا میں بہاتا ہے اور اس رسم کی ادائیگی خاندان کے پنڈت کرتے ہیں جو کہ ماہر علم نسب بھی ہوتے ہیں۔

وہ خاندان کے شجرے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں اور اس میں شادی، پیدائش اور موت کا اندراج کرتے رہتے ہیں۔

Image caption ہندو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خاندان جامع اور کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور ہر ہندو کو اپنے آبا کی تلاش کرنی چاہیے

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خاندان جامع اور کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور ہر ہندو کو اپنے آبا کی تلاش کرنی چاہیے اور جنت کے لیے ان کے سفر کو آسان بنانے اور انھیں امر کرنے کے لیے رسم کی ادائیگی کرنی چاہیے۔

اس لیے انھیں اس شجرے کے رجسٹر میں جسے ’بہی کہا جاتا ہے اپنے نام درج کروانے چاہیں۔

وقت کے ساتھ ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں لانے اور سائنسی نظریے کے پھیلاؤ نے پنڈتوں کے کام پر اثر ڈالا ہے اور ان کی قدرو قیمت اور مذہبی رسوم پر شکوک پیدا ہوئے ہیں۔

ان میں سے بہت سوں نے اپنا کام چھوڑ دیا ہے اور سیاحت کے منافع بخش کام میں شامل ہوگئے ہیں اور ہوٹلوں کے مینیجر بن بیٹھے ہیں۔

لیکن مہندر کمار جیسے چند پنڈت ابھی بھی یہ کام کرتے ہیں اور اپنے کاروبار سے منسلک ہیں۔

حیدر آباد کے عطار

سید عبدالغفار نے تو عطر کی دکان کھول لی ہے لیکن ان کے آبا اپنے گلے میں صندوق لٹکا کر گلیوں گلیوں دوسرے خوانچے اور پھیری والوں کی طرح گھومتے تھے۔

وہ ان گلیوں میں گھوما کرتے جہاں امرا، نواب اور پرانے شاہی خانوادوں کے گھر ہوتے۔

انھیں بلایا جاتا اور خواتین اپنی پسند کی خوشبوئیں خریدتیں جن میں ’رات کی رانی‘ یا یاسمین کی خوشبو ہوتی جو وہ اپنے خاوند کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عطار ہر بڑے شہر میں نظر آتے ہیں لیکن اب برانڈڈ خوشبو کا زمانہ ہے

عبدالغفار اب بھی اپنا مخصوص عطر بناتے ہیں اور اپنے بعض صاحب ذوق خریداروں کے ذوق کی تسکین کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم کبھی بھی سنتھیٹک عطر نہیں بناتے یہ غیر اخلاقی ہے۔‘

اب زیادہ تر لوگ برانڈڈ عطر کی جانب مائل نظر آتے ہیں کیونکہ یہ کفایتی بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ’یہی بنانا جانتے ہیں اور اپنی پوتیوں کے ساتھ گھر پر بے کار بیٹھنا نہیں چاہتے جہاں کھانے اور سونے کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔‘

اسی بارے میں