چین میں ’بدھ مت کے مستند زندہ اوتاروں‘ کی فہرست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویب سائٹ پر بدھ مت کے 70 ’مصدقہ‘ اوتاروں کے نام، تصاویر، اور ان کے جغرافیائی محل وقوع کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں

چین نے پہلی بار ’بدھ مت کے مستند زندہ اوتاروں‘ کی فہرست جاری کی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے دھوکےباز اوتاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے منصب کو بدھ مت کے پیروکاروں سے پیسے بٹورنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق بیجنگ کی جانب سے پہلی بار آواگون کے معاملے میں کوئی غیر معمولی قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت مذہبی امور کے ریاستی ادارے کی ویب سائٹ پر بدھ مت کے 70 ’مصدقہ‘ اوتاروں کے نام، تصاویر، اور ان کے جغرافیائی محل وقوع کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

اس قدم کو فہرست میں شامل افراد کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں شامل درخانگ تھبٹن کھیٹسپ نے شن ہوا کو بتایا کہ ’بدھ کے اوتار کی حیثیت سے میں اس بارے میں حقیقی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔‘

چین کے مذہبی امور کے ادارے کے مطابق اس نظام کو متعارف کروانے کا مقصد ’جعلی‘ اوتاروں کا تدارک کرنا ہے جو تبت کے بدھ مت مذہب کو اور اس کے پیروکاروں کو لوٹ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1959 کی ناکام بغاوت کے بعد سے موجودہ دلائی لاما بھارت میں مقیم ہیں

دوسری جانب روحانی فہرست بنانے کے اس منصوبے کو دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے تبت کے معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے نکولس بیکیولن نے گذشتہ سال دسمبر میں اس منصوبے کے اعلان کے موقعے پرامریکی جریدے ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بدھ کے اوتاروں کی فہرستیں بنانے اور آواگون کے معاملے پر تشکیل دی جانے والی پالیسی کا مقصد موجودہ دلائی لاما کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر چین کی حکومت کی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔‘

اس نظام کو دیگر مذہبی تقرریوں کے معاملے میں ریاستی عمل دخل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

14 ویں اور موجودہ دلائی لاما تینزن گیاتسو بدھ مت کے عقیدے کے اعتبار سے گذشتہ دلائی لاما کا دوسرا جنم ہیں جو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب’سرکاری‘ پنچن لاما کی عمر 25 سال ہے

چین کی حکومت کے خلاف سنہ 1959 کی ناکام بغاوت کے بعد سے موجودہ دلائی لاما بھارت میں مقیم ہیں۔

سنہ 1995 میں دلائی لاما اور بیجنگ کی جانب سے دو مختلف بچوں کو پنچن لاما مقرر کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ دلائی لاما کے بعد پنچن لاما بدھ مت کا دوسرا سب سے بڑا منصب ہے۔

اب’سرکاری‘ پنچن لاما کی عمر 25 سال ہے۔ چین کی جانب سے ان کی تخت نشینی کی 20ویں سالگرہ کے موقعے پر گذشتہ سال دسمبر میں انھیں اس حیثیت میں سرکاری سطح پر تسلیم کر لیاگیا تھا۔

اسی بارے میں