کیا بھارت میں نقدی رکھنے کا رجحان ختم ہو جائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب موبائل والٹ یعنی پرس اور نقد رقم کے بغیر ادائیگی کی سہولت میسر ہونے سے صورت حال تبدیل ہو رہی ہے

بنود اوپادھئے منزل پر پہنچنے کے ساتھ ہی فوری طور پر پیچھے مڑ کر یہ دیکھتے ہیں کہ صارف پرس باہر نکال رہا ہے یا موبائل فون۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’اگر موبائل نکالتے ہیں تو میں مطمئن ہو جاتا ہوں۔‘

گذشتہ 25 برسوں سے وہ رکشہ چلا کر پیسے کما رہے ہیں۔ پیلے اور سیاہ رنگ کی تین پہیوں والی یہ سواری بھارت کے معاشی شہر ممبئی میں مقبول عوامی سواری ہے۔

لیکن اب رکشے میں سفر کرنے والے مسافروں سے رقم وصول کرنا اوپادھئے کے لیے بہت آسان ہوگیا ہے۔ متعدد بار اُن کے اور مسافروں، دونوں کے پاس کھلے پیسے نہیں ہوتے تھے اور پھر اُن کو مجبور کر کے قریبی دکانوں میں کھلے پیسوں کے لیے آوازیں لگاتے تھے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’کچھ مسافر سوچتے ہیں کہ میں بقیہ رقم واپس نہ کرنے کے لیے جھوٹ بول رہا ہوں۔‘

لیکن اب موبائل والٹ یعنی پرس اور نقد رقم کے بغیر ادائیگی کی سہولت میسر ہونے سے صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ چھ مہینے قبل جب سے میں نے اِس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے، زندگی آسان ہوگئی ہے۔

Image caption اب رکشے میں سفر کرنے والے مسافروں سے رقم وصول کرنا اوپادھئے کے لیے بہت آسان ہوگیا ہے

رقم کی ادائیگی کا عمل انتہائی آسان ہے۔ ایپلیکیشن میں لاگ اِن کرنے کے بعد کسٹمر کِی میں رکشہ ڈرائیور کے موبائل نمبر اور مطلوبہ رقم کا اندراج کریں اور سمارٹ فون میں ’پے‘ کا بٹن دبا دیں۔

اِس کے بعد فوری طور پر ڈرائیور کو اُس کے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہو گا، جس سے اُس کے اکاؤنٹ میں رقم جمع ہونے کی تصدیق ہو جائے گی۔ اِس ایپ کو ممبئی کی ایک ٹیکنالوجی کی کمپنی ’آنگو‘ نے تیار کیا ہے۔

تاہم یہ ابھی آغاز ہے اور ممبئی کے ڈھائی لاکھ رکشہ ڈرائیوروں میں سے صرف دس فیصد نے ہی رقم کی الیکٹرونک وصولی کو قبول کیا ہے۔ لیکن جیسے ہی مزید ڈرائیور اِس ایپ کا استعمال شروع کریں گے اِس کے ذریعے سے لین دین میں اضافہ ہو جائے گا۔

موبائل میں اضافہ

بھارت میں تقریباً 20 کروڑ موبائل والٹ اکاؤنٹ ہیں، اگرچہ یہ تمام فعال نہیں ہیں اور متعدد افراد کے ایک سے زائد اکاؤنٹ موجود ہیں۔

Image caption ممبئی کے ڈھائی لاکھ رکشہ ڈرائیوروں میں سے صرف دس فیصد نے ہی رقم کی الیکٹرونک وصولی کو قبول کیا ہے

زیادہ تر افراد اِن کا استعمال ٹیکسی کے کرایے دینے، سینما کے ٹکٹ خریدنے اور یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن موبائل کمپنیاں اپنی سروس کو بڑھانے کے لیے شاپنگ مالز، گروسری یعنی پنساری کی دکانوں اور ریستوران والوں سے معاہدے کر رہی ہیں۔

سیٹرس پے نامی موبائل والٹ کے بانی جتندرا گپتا کا کہنا ہے کہ ’آنے والے چند سالوں میں ریٹیل یعنی پرچون خریداری کے لیے رقم کی ادائیگی بری طرح متاثر ہو گی۔‘

’عوام روز مرہ کی خریداری کے لیے نقد رقم یا کارڈز کے بجائے موبائل والٹ کا استعمال کریں گے۔‘

بھارت دنیا بھر میں سمارٹ فونز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ اور سنہ 2017 تک امریکہ کو پچھاڑ کر دوسری بڑی مارکیٹ بن سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت دنیا بھر میں سمارٹ فونز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے

اُبھرتی ہوئی مارکیٹ

گروتھ پریکسز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2012 سے 2015 کے درمیان بھارت میں موبائل کے ذریعے سے رقم کی ادائیگی میں 15 گنا اضافہ ہوا ہے اور اِس کا حجم ایک ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بہت سے دیگر ممالک کے برعکس جہاں لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر انٹرنیٹ میسر ہوتا ہے، بھارت میں تقریباً 60 فیصد صارفین کو پہلی بار اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ تک رسائی ملی ہے۔

پرائس واٹر کوپر ہاؤس بھارت سے تعلق رکھنے والے معاشی ماہر ویویک بلغاوی کا کہنا ہے کہ ’اِس سے قبل لوگ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے لیے موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب یہ چیز تبدیل ہو رہی ہے، اب لوگ اِس کا استعمال موبائل کے ذریعے سے رقم کی ادائیگی کے لیے کر رہے ہیں۔‘

Image caption موبائل استعمال کرنے والوں کی بھاری اکثریت اب بھی 2 جی انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں

خراب نیٹ ورک

تو کیا موبائل والٹ نقدی سے ماورا معیشت کی راہ ہموار کر رہے ہیں؟

اِس کا جواب جلد ملتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ملک میں موبائل کی فروخت میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن موبائل نیٹ ورک کا معیار اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

موبائل استعمال کرنے والوں کی بھاری اکثریت اب بھی 2 جی انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، شہری علاقوں میں تھری جی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کالوں کا ناقص معیار اور خراب نیٹ ورک کی شکایات عام ہیں۔

ٹیلی کام کمپنیاں اِس کا الزام دستیاب موبائل سپیکٹرم کی کمی پر ڈال رہی ہے جو اِس کی بنیادی وجہ ہے۔ موبائل والٹ کمپنیاں اِس بارے میں تشویش کا شکار ہیں کہ اِس ناقابلِ اعتماد نیٹ ورک کی وجہ سے اُن کی ترقی کے منصوبے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

گپتا کا کہنا ہے کہ ’موبائل کے ذریعے سے رقم کی ادائیگی میں سب سے بڑی مشکل نیٹ ورک ہے، اور اگر آج آپ 3 جی انٹرنیٹ پر ہیں تو زیادہ تر وقت یہ 2 جی پر ہی ہوتا ہے۔‘

اور اِسی وجہ سے ہر کسی کی اُمید 4 جی پر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل والٹ کی کامیابی 4 جی سروس پر موثر عمل درآمد کے ساتھ منسلک ہے۔

Image caption بیرون ملک کام کرنے والے زیادہ تر مزدور اپنے گھر رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ذریعے سے نقد رقم بھیجتے ہیں

شخصی تعلق

تو کیا موبائل فون والٹ بھارت میں بھی ویسے ہی کامیاب ہو گی، جیسے کہ دیگر ممالک مثال کے طور پر کینیا میں ہے، جہاں 90 فیصد بالغ عوام ووڈا فون کے ایم پیسہ ادائیگی کے پلیٹ فارم پر موجود ہے؟

بھارت میں بینکوں کی بہت زیادہ شاخیں ہیں، شاید ایک لاکھ سے بھی زیادہ لیکن اِن کا 20 فیصد دیہاتی علاقوں میں قائم ہے۔ اسی علاقے میں جہاں بھارت کی نصف سے زائد آبادی زندگی گزار رہی ہے۔

شہر میں روزگار کے لیے آنے والے لاکھوں دیہاتیوں کے لیے بینک کے ذریعے سے رقم بھیجنا تقریباً ناممکن ہے۔ اِسی لیے بیرون ملک کام کرنے والے زیادہ تر مزدور اپنے گھر رشتہ داروں یا جاننے والوں کے ذریعے سے نقد رقم بھیجتے ہیں۔

گپتا کا خیال ہے کہ اِس وجہ سے ’افراد کے ذریعے سے رقم کی منتقلی حقیقی گیم چینجر ثابت ہو گی۔‘

اگر قابل اعتماد اور تیز موبائل نیٹ ورک دیہاتی علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں تو بھارت میں موبائل والٹ میں بڑی ترقی نظر آنی چاہیے۔

لیکن اس کے لیے اب بھی ایک بڑی روایتی تبدیلی کی ضرورت ہو گی جو لوگوں کو نقد رقم استعمال کرنے کی عادت سے روک سکے۔

اسی بارے میں