بین الاقوامی کمپنیاں ایران میں سرمایہ کاری کی متمنی

ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے کے اعلان کے چند روز بعد بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے ایرانی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کے اعلانات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

چند کمپنیاں پہلے ہی قدرتی ذخائر سے مالامال، انتہائی تعلیم یافتہ آبادی والے، قدرتی وسائل سے مالامال ایران میں سرمایہ کاری کی نیت سے واپسی کے لیے مہینوں سے منصوبہ بندی کرتی رہی ہیں۔

امریکی پابندیاں بدستور لاگو ہونے کے باعث ایران کے ساتھ تجارت امریکی کمپنیوں کے لیے انتہائی مشکل ہوگی جبکہ ان کے مقابلے میں یورپی اور ایشیائی کمپنیاں یقیناً آگے نکلتی نظر آئیں گی۔

تاہم ایران میں سرمایہ کاری اور تجارت کی غرض سے دلچسپی لینے والوں کو اس بارے میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

بدعنوانی، فرسودہ تجارتی لیبر قوانین اور کسی بھی دوسرے قانونی مسئلے کا اختتام ایرانی عدالتوں میں ہو سکتا ہے جو پہلے ہی انتہائی سست رفتاری سے کام کرنے کے لیے بدنام ہیں۔

تاہم ترقی کے مواقع اور ممکنہ منافعوں سے منھ موڑنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ یہاں ہم نے ایسے ہی چند ترغیب آمیز مواقعوں کا جائزہ لیا ہے۔

گاڑیاں، ٹرک، اور بسیں

برطانوی موٹر کمپنی ڈیملر نے اس حوالے سے وقت باکل ضائع نہیں کیا اور ان کی جانب سے پہلے ہی مقامی سطح پر پیداوار اور فروخت ایک بار پھر شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ڈیملر اور مقامی کمپنی ایران خودرو باہمی شراکت داری سے انجن اور دیگر پرزے بنائیں گے۔ ڈیملر کا کہنا ہے کہ وہاں پر ’تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی طلب بہت زیادہ ہے جن میں ٹرک خاص طور پر شامل ہیں۔‘

یاد رہے کہ ڈیملر نے 2010 میں ایران سے واپسی اختیار کر لی تھی۔

فرنسیسی آٹوموبل کمپنی پگوٹ ٹرون کی مصنوعات کے لیے ایران دوسری سب سے بڑی مارکیٹ تھا جبکہ سنہ 2012 میں انھیں وہاں سے مجبوراً نکلنا پڑا تھا۔ اپنے عروج کے زمانے میں اس کمپنی کی ساڑھے چار لاکھ گاڑیاں سالانہ فروخت ہو رہی تھیں۔

اب یہ کمپنی ایرانی مارکیٹ میں ایک بار پھر داخل ہونے کےلیے تیار ہے۔ پیجو کے مطابق مشترکہ پیداواری منصوبہ شروع کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

فوری طور پر یہ کمپنی اپنے مقامی شراکت دار کے ساتھ تہران میں اپنی ڈی ایس برانڈ کا شو روم کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تاہم پیجو کی مصنوعات کو مقابلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ووکس ویگن بھی ایرانی مارکیٹ میں داخل ہونے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

دوسری جانب گاڑیوں کے پرزے بنانے والی کمپنیاں بھی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں جن میں گاڑیوں کے پہیے بنانے والی کمپنی کانٹی نینٹل بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران چاہے گا کہ غیر ملکی کمپنیاں ایران میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایران سے تکنیکی معلومات کا تبادلہ کریں۔ تاہم اُن کمپینوں کے لیے یہ بات مسئلہ بن سکتی ہے جو اپنے تخلیقی ملکیتی حقوق کے تحفظ کے بارے میں فکرمند رہتی ہیں۔ انھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ اس قیمت پر منافع کمانا چاہتی ہیں۔

ہوابازی کی صنعت

ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی ایئر بس پہلے ہی ایران کی سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر کے لیے 114 ہوائی جہازوں کا آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگلی دہائی تک ایران کو 600 ہوائی جہازوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تاہم ایئر بس کو دوسری فضائی کمپنی بوئنگ سے مقابلے کا سامنا رہے گا جو اُن چند امریکی کمپنیوں میں شامل ہے جنھیں ایران کے ساتھ تجارتی روابط کی اجازت ہو گی۔

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو اب بھی پابندیوں کا سامنا ہے اور زیادہ تر امریکی کمپینوں کو اب بھی ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ بوئنگ کمپنی چھوٹی جسامت کے مقبول جہاز 737 اور طویل مسافت کے لیے بڑے 777 جہازوں فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

بوئنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایران کے لیے جہازوں کی فروخت کا فیصلہ کرنے سے پہلے کئی اہم پہلو ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ فی الحال ہم صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

اندرون ملک اور بیرون ملک پروازوں کے لیے اس وقت تہران شہر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں موجود ہوائی اڈوں کی حالت کو بہتر بنانا پڑے گا جن میں شمال مشرق میں واقع ایران کا دوسرا سب سے بڑا شہر مشہد، جنوب مغرب میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز شیراز، اور مرکزی ایران میں واقع صنعتی شہر اصفہان شامل ہیں۔

تیل کے ذخائر

دنیا میں تیل کے چوتھے سب سے بڑے ذخائر کا مالک ہونے کی حیثیت سے ایران دنیا بھر کی تیل کی کمپنیوں کی ممکنہ جنت ہے۔

فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں دوبارہ کام کرنے کے ’متمنی‘ ہیں اور وہاں کام کرنے کی ان کی طویل تاریخ رہی ہے۔

پابندی سے قبل ایرانی تیل کی سب سے بڑی خریدار اٹلی کی کمپنی اینی تھی۔ اس کے چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار والا بڑا اور اہم ملک بننے کے لیے ایران کو اپنے تیل کی صنعت میں 150 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس میں ’چار سے پانچ سال‘ لگ سکتے ہیں۔

ادھر ناروے کی سٹیٹ آئل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ’ کام کے نئے مواقع‘ کے لیے آمادہ ہے۔

معروف کمپنی شیل ایران میں ایک منصوبے پر کام کر چکی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے ’یہ بات ابھی قبل از وقت ہے‘ کہ کیا وہ ایران میں دوبارہ سرمایہ کاری کریں گے یا نہیں۔

انھوں نے اپنی ایک بیان میں کہا: ’قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایران کی توانائی کے ذرائع بہتر بنانے کے لیے شیل اپنا کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘

ایران کے پاس نہ صرف تیل کے بہت بڑے ذخائر ہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر سستا بھی ہے۔ منافع کی غرض سے دیکھا جائے تو سنہ 2014 کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کے بعد سے ایرانی تیل سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم سرمایہ کاری کی کمی کے باعث ایران میں تیل کی پیداوار میں بتدریج کمی آئی ہے۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2010 میں ایران میں تیل کی پیداوار 37 لاکھ بیرل یومیہ تھی جو سنہ 2015 تک کم ہوکر 29 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی تھی۔

تیل اور توانائی کے امور کے ماہر منوچہر تکین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت سمندر پار کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے موجودہ طریقوں میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ اس بارے میں تفصیلات کے لیے ہمیں فروری کا انتظار کرنا ہو گا جب ایرانی حکومت لندن کانفرنس میں تفصیلات کا اعلان کرے گی۔

گیس

جنوبی فارس میں دنیا کے گیس کے سب سے بڑے ذخائر ہیں اور ان کا بڑا حصہ ایرانی پانیوں میں ہے اور تیل کی صنعت کی طرح ایران کی گیس کی صنعت کو بھی اس وقت بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب تیل کے مقابلے میں گیس کی برآمد کہیں مشکل ہوتی ہے۔

ایران کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی پیداوار دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ایل این جی کو بحری جہاز کے ذریعے بھی برآمد کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے پائپ لائنیں بھی بچھائی جا سکتی ہیں۔

ایران کے شیل، سپین کی کمپنی ریپسول اور فرانس کی کمپنی ٹوٹل کے ساتھ تین ایل این جی پلانٹ لگانے کے منصوبے تھے جنھیں بعد میں ختم کرنا پڑا تھا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ان منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کیا جائے گا یا نہیں۔

جرمنی کی بڑی گیس کمپنی لنڈا پہلے ہی ایران کے ایل این جی سیکٹر میں دلچسپی کا اظہار کر چکی ہے۔

پابندیوں سے قبل ایران کے یورپ، بھارت، شام اور ترکی کے ساتھ پائپ لائنیں بچھانے کے منصوبے تھے تاہم یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے تھے۔

یورپ اور ایشیا کی کمپنیاں ممکنہ طور پر ایک بار پھر سے اس اہم شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوں گی۔

سیاحت

گذشتہ سال اکتوبر میں ایران کے نائب صدر نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے کہا تھا کہ وہ ایران پر سے پابندیاں اٹھائےجانے کے بعد ایران میں سیاحوں کے ’سونامی‘ کے لیے پُر امید ہیں۔

سیاحوں کی دلچسپی کی شاندار جگہوں پرسیپولس یا تخت جمشید، شیراز اور اصفہان جیسی مثالوں کے ساتھ ایران میں سیاحت کے فروغ کے بہت اچھے مواقع موجود ہیں۔

سنہ 2014 میں ایران نے 50 لاکھ سے زائد سیاحوں کی میزبانی کی تھی جو اپنے ساتھ 7.5 ارب ڈالر کی آمدنی لائے تھے۔ تاہم مسعود سلطانی فر نے اے پی کو بتایا کہ ایران کا ہدف سنہ 2025 تک دو کروڑ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنا ہے جس سے تقریباً 30 ارب پاؤنڈ سالانہ کی آمدنی ہو گی۔

ایران کے سیاحتی ہدف پر ٹونی ویلر کا کہنا ہے کہ ’یہ تو بہت بڑا ہدف ہے۔‘ خیال رہے کہ ٹونی ویلر ’لونلی پلینٹ‘ نامی ٹریول گائیڈ کے بانی ہیں اور وہ ایران کا کئی بار دورہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ تھائی لینڈ جیسا ملک جہاں سیاحت کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے سالانہ دو کروڑ سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے۔

ساتھ ہی انھوں نے توجہ دلائی کہ میانمار میں بھی جب سمندر پار سرمایہ کاری کا دوبارہ آغاز ہوا تھا تو سیاحت میں بھی ’زبردست تیزی‘ دیکھی گئی تھی اور ایسا ہی ایران کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

ایران پہلے ہی شیعہ زائرین کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اور ہر سال لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس مقصد سے ایران کا سفر کرتے ہیں۔

دوسری جانب سفر و سیاحت کے ماہر سائمن کالڈر کا کہنا ہے کہ ایران سیاحت کی غرض سے بہت زیادہ پُرکشش نظر نہیں آتا۔ مشرق وسطیٰ کے دیگر سیاحتی مراکز کے مقابلے میں اسے خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کی نظر میں الکوحل پر پابندی بھی وہاں کا سفر نہ کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

ہوٹلوں میں کمروں اور بستروں کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے تاہم بین الاقوامی ہوٹل ایران میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

فرانس کے ایکور ہوٹل نے تہران میں دو نئے ہوٹل کھولے ہیں جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ دیگر بھی ان کی تقلید کرتے نظر آئیں گے۔

کان کنی اور دھاتیں

ایران میں جست، تانبے، خام لوہا، مینگنیز اور چاندی کے بڑے ذخائر ہیں۔ ان کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تاہم چند بین الاقوامی کمپنیاں اس صنعت میں سرمایہ کاری کا جائزہ لے رہی ہیں۔

بھارت کی المونیم کی سرکاری کمپنی نالکو وہاں اپنا ایک پلانٹ لگانے کے لیے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ دیگر کمپنیاں بھی آگے بڑھیں گی۔

اسی بارے میں