طالب علم کی خودکشی، دلت رہنما بی جے پی سے ناخوش

تصویر کے کاپی رائٹ ROHITH VEMULA FACEBOOK PAGE
Image caption پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم روہت ویملا نے 17 جنوری کی رات پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی

بھارت کے شہر حیدرآباد میں دلت طالب علم روہت ویملا کی خودکشی کے معاملے میں سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کے رکن سنجے پاسوان نے اپنی پارٹی کے ارکان کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

دلت طالب علم کی خودکشی پر احتجاجی مظاہرے

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں حساسیت دکھائی جانی چاہیے تھی اور مقامی رکن پارلیمان ہونے کے ناطے بنڈارو دتاتریا کا براہ راست اس طالب علم کو ‘اینٹی نیشنل‘ کہنا درست نہیں تھا۔

حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے دلت طالب علم روہت ویملا نے 17 جنوری کی رات پھانسی لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ وہ اس یونیورسٹی کے ان پانچ طالب علموں میں تھے، جنھیں ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔

پاسوان نے کہا کہ یہ مرکزی یونیورسٹی کا معاملہ تھا ایسے میں انسانی وسائل کے وزیر سمرتی ایرانی کو اس مسئلے پر پہلے رائے دینی چاہئے تھی، جبکہ انھوں نے بدھ کو رائے دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption پاسوان کا کہنا ہے کہ وہاں کے وائس چانسلر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے جس سے ایک پیغام ملتا

بدھ کو سمرتی ایرانی نے کہا تھا کہ اس معاملے کو نسل پرستی کا رنگ نہیں دینا چاہیے اور وزارت نے جو کیا وہ ایک عمل کے تحت ہی کیا، اس پر رضامندی کے سوال پر پاسوان نے کہا، ’سمرتی ایرانی نے دور سے مداخلت کی اور انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ دلت غیر دلت کا نہیں ہے. میں اسے کوئی سنگین مداخلت نہیں مانوں گا بلکہ ایک رسمی مداخلت ہے۔‘

پاسوان کا کہنا ہے کہ وہاں کے وائس چانسلر کو فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے جس سے ایک پیغام ملتا۔

پارٹی کے اقدم پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’لوگ اگر الگ ہوں گے تو ہماری پارٹی کمزور ہوگی، دلت سماج کو الگ تھلگ کرنا صحیح نہیں ہے. اسی وجہ سے میں نے لوگوں کے بیان سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ایک سوال پر پاسوان کہتے ہیں، ’میں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو اس معاملے میں ایک بیان دینا چاہیے تھا اس طرح ایک بڑا پیغام جاتا، لیکن انھوں نے کوئی بیان نہیں دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’وزیر اعظم کے بیان سے اس طالب علم کے خاندان کو اور اس کمیونٹی کو تھوڑی تسلی ملتی۔ پارٹی صدر امت شاہ کو بھی بیان دینا چاہیے تھا جس معاشرے میں اچھا پیغام جاتا۔‘

اسی بارے میں