ادیبوں پر حملے کے شبہے میں 14 زیر حراست

تصویر کے کاپی رائٹ mha singapore
Image caption یہ افراد تعمیرات کی صنعت سے وابستہ ان 26 مزدوروں میں شامل تھے جنھیں جہادی نظریات کی حمایت کرنے پر گذشتہ سال سنگاپور سے نکال دیا گیا تھا

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ سنگاپور سے ملک بدر کیے جانے والے 14 بنگلہ دیشیوں کو مبینہ طور پر سیکیولر ادیبوں پر حملے کرنے والے گروپ سے تعلق کے شبہے میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔

بنگلہ دیش: آزاد خیال بلاگر کے قاتلوں کو سزائے موت

بنگلہ دیش میں بلاگرز کا قتل، برطانوی شہری سمیت تین گرفتار

یہ افراد تعمیرات کی صنعت سے وابستہ ان 26 مزدوروں میں شامل تھے جنھیں جہادی نظریات کی حمایت کرنے پر گذشتہ سال سنگاپور سے نکال دیا گیا تھا۔

سنگاپور نے ان افراد کی ملک بدری کی خبر کا اعلان اس ہفتے کے آغاز ہی میں کر دیا تھا۔

سنگاپور نے کہا ہے کہ یہ انتہا پسند سرگرمیوں میں حصہ لینےکی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور جہادی مواد تقسیم کر رہے تھے۔

ان 26 کے علاوہ ایک 27ویں شخص پر بھی اس سیل کا حصہ ہونے کا شبہ ہے جسے سنگاپور سے بھاگتے ہوئے گرفتار کرنے کے بعد حراست میں رکھا گیا ہے۔

انصار اللہ بنگلہ ٹیم سے روابط

جمعرات کو بنگلہ دیش کی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے 21 دسمبر کو وطن پہنچنے والے تمام ملک بدر افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے ان میں سے کچھ کو شواہد نہ ہونے کی بنا پر رہا کر دیا تھا، لیکن 14 افراد کو انصاراللہ بنگلہ ٹیم سے تعلق ظاہر ہونے کی وجہ سے گرفتار ہی رکھا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انصاراللہ بنگلہ ٹیم پر سیکیولر خیالات کے حامی بلاگروں پرحملے کرنے کا الزام ہے۔

رہا کیے جانے والے افراد کو بھی پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

سنگاپور کے حکام کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے کچھ ارکان مشرق وسطیٰ اور بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مسلح جہاد میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔

وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان افراد کے پاس ’کثیر تعداد میں شدت پسندی اور جہاد سے متعلق مواد موجود تھا، جس میں بچوں کو دہشت گردوں کیمپوں میں تربیت دینے کی فوٹیج اور بغیر ثبوت چھوڑے قتل کرنے کی ہدایات شامل تھیں۔‘

سنگاپور کی تعمیراتی صنعت میں جنوبی اشیا کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے، اور حکام کی جانب سے پکڑا جانے والا مذ کورہ گروپ ملک کا پہلا غیر ملکی دہشت گرد سیل ہے۔

اسی بارے میں