افیم کے پھول استعمال کرنے پر ریستوران بند

Image caption چین میں اس سے قبل بھی ریستورانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی ہے

چین کے حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے ملک بھر میں 35 ریستوران پکڑے ہیں جو کھانوں میں غیر قانونی طور پر افیم کے پھول استعمال کر رہے تھے۔

چین کے خوراک اور منشیات کے ادارے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانچ ریستورانوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جبکہ باقی کے خلاف ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

چین کے اخبار چائنا ڈیلی نے خبر دی ہے کہ مقامی حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ افیم کے پھول کہاں سے فراہم کیے جا رہے تھے۔

افیم کے پھولوں کا سفوف کم نشہ آور ہوتا ہے، تاہم چین میں پکوانوں میں اس کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ اس سے قبل بھی ریستوران اس کا استعمال کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

2012 میں ننجیان میں اس پابندی کی خلاف ورزی پر سات ریستوران بند کر دیے گئے تھے جبکہ گوئزہو صوبے میں 2004 میں 215 ریستوران بند کیے گئے تھے۔

تازہ کارروائی میں جو ریستوران پکڑے گئے ہیں ان میں دارالحکومت بیجنگ کا مشور ریستوران ہودا بھی شامل ہے۔

اس ریستوران کے جنرل مینیجر ہو لنگ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی کمپنی کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ غلطی سے ایسے مصالحہ جات خرید لیے ہوں جن میں یہ پاوڈر شامل تھا۔ انھوں نے اس پر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔

چین میں حالیہ برسوں میں اس طرح کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

2014 میں شنگھائی کی ایک بڑی فرم مضر صحت اور زائد المعیاد مرغی کا گوشت میکاڈانلڈ، سٹار بک اور کے ایف سی جیسے بین الاقوامی ریستورانوں کو فراہم کرتے ہوئے پکڑی گئی تھی۔

2008 میں پلاسٹک اور کھاد بنانے والے کیمیکل کی ملاوٹ والا خشک دودھ پینے سے چھ بچے ہلاک اور تین لاکھ کے قریب بیمار ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں