’جنگی جرائم کی تحقیقات میں غیرملکی جج درکار نہیں‘

Image caption صدر نے کہا کہ وہ کبھی بھی اس معاملے عالمی شمولیت پر اتفاق نہیں کریں گے اور ان کے پاس اپنے خود کے داخلی معاملات حل کرنے کے لیے بہت سے خصوصی ماہرین اور اہل علم افراد ہیں

سری لنکا کے صدر کا کہنا ہے کہ مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کی تفتیش میں بیرونی ججوں اور وکلا کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

صدر میتھری پالا سریسینا نے بی بی سی کے ساتھ ایک خاص انٹرویو میں کہا کہ ملک میں ایسے ماہرین کی باہر سے ’درآمد‘ کی ضرورت نہیں ہے۔

سری لنکا کی فوج اور باغی فورسز تمل ٹائیگرز پر خانہ جنگی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اس سے قبل حکومت اقوام متحد کی اس قرارداد کی حمایت کی تھی جس میں غیرملکی ججوں پر مشتمل جنگی جرائم کی عدالت کے قیام کی بات کہی گئی تھی۔

لیکن جمعرات کو بی بی سی سے بات چیت میں صدر نے کہا ’میں کبھی بھی اس معاملے عالمی شمولیت پر اتفاق نہیں کروں گا۔ ہمارے پاس اپنے خود کے داخلی معاملات حل کرنے کے لیے بہت سے خصوصی ماہرین اور اہل علم افراد ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ تفتیش ملک کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے بغیر داخلی طور پر ہونی چاہیے اور مجھے عدالتی نظام اور اس سے متعلق ملک کے دیگر محکموں پر پورا یقین ہے۔ عالمی برادری کو ملک کے اندرونی معاملات کے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اس کی سزا ملے لیکن جو بھی کچھ ہوا اس کے لیے پوری فوج کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے

جب ان سے سوال کیا گيا کہ عدالتوں کا قیام کب تک ہو جائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ چيزیں فوری طور پر یا جلد بازی میں نہیں کی جا سکتیں۔ ہم اپنا ہدف ایک عمل کے تحت پورا ضرور کرلیں گے۔‘

گذشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل میں اس معاملے پر جو قرارداد پیش کی گئی تھی اس کی حمایت سری لنکا نے بھی کی تھی۔

اس قرارداد میں دولت مشترکہ کے ممالک کی مدد سے ایک خصوصی عدالتی نظام کے قیام کی بات کہی گئی تھی جس میں بیرونی ممالک کے ججوں، وکلا اور تفتیش کاروں کو شامل کرنے کی تجویز تھی۔

تمل ٹائیگرز کے ساتھ تنازعے اور خانہ جنگي کے دوران تقریبا ایک لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ لڑائی تقریبا 26 برس تک چلی لیکن بالآخر سری لنکا نے بغاوت کو کچل دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حقوق انسانی کی علمبردار تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ اس لڑائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جن کی تفتیش ہونی ضروری ہے۔

صدر سریسینا نے کہا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے گذشتہ ستمبر میں جو رپورٹ جاری کی تھی اس میں فوج کے جرائم میں شامل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن رپورٹ کسی بھی فوجی کا نام بتانے میں ناکام رہی۔

انہوں نے کہا ’اگر سری لنکا کی فوج پر اس طرح کے کوئی الزامات ہیں تو ہماری پہلی تشویش یہ ہونی چاہیے کہ ہم انہیں ان الزامات سے بری کرائیں۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اس کی سزا ملے۔ لیکن جو بھی کچھ ہوا اس کے لیے پوری فوج کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔‘

اسی بارے میں