دہلی میں کنوارے کرائے دار کہاں جائیں؟

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کنوارے یا کنواری کے لیے فلیٹ کرائے پر لینا نہایت مشکل ہے۔ کئی اپارٹمنٹس کے باہر لکھا ہوا ہوتا ہے ’کنوارے کرائے دار‘ زحمت نہ کریں۔

مالکان زیادہ تر سبزی خوروں، سرکاری اہلکار اور صرف ہندوؤں کو فلیٹ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

لیکن مالکان کے پاس غیر شادی شدہ افراد کو فلیٹ کرائے پر نہ دینے کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس فہرست میں پانچ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

الکوحل نہیں

کئی پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے غیر شادی شدہ افراد کو فلیٹ کرائے پر نہیں دیے جانے کی سب سے بڑی وجہ ان کی سخت الکوحل سے پرہیز کی پالیسی ہے۔

غازی آباد کے علاقے میں ایک پراپرٹی ڈیلر نے بتایا ’اگر کوئی مالک غیر شادی شدہ کو فلیٹ کرائے پر دے بھی دے تو اس کی شرط ہوتی ہے کہ کرائے دار فلیٹ پر شراب نہیں پیے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کچھ کرائے دار جھوٹ بولتے ہیں لیکن وہ اکثر اس وقت پکڑے جاتے ہیں جب مالک مکان اچانک آ جاتا ہے۔

کرایہ

دوسری بڑی وجہ مالکان کا یہ تاثر ہے کہ غیر شادی شدہ افراد وقت پر کرایہ نہیں دیتے۔ دہلی کے مضافات میں رہنے والے مارکٹنگ پروفیشنل کمل وکرم کہتے ہیں کہ یہ بہت اذیت ناک ہے۔

’میں کم از کم 15 مالک مکان سے ملا اور پھر کہیں ایک نے مجھے اپنا فلیٹ کرائے پر دیا۔‘

گندگی

کچھ مالک مکان کا خیال ہے کہ غیر شادی شدہ افراد مکان صاف نہیں رکھتے۔

طالب علم روہی اگروال کہتے ہیں ’یہ بات سب غیر شادی شدہ افراد پر لاگو نہیں کی جاسکتی۔ صفائی کا خیال رکھنا کسی کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے سے نہیں ہے۔ ہاں لیکن مالک مکان عام طور پر صفائی پر زور دیتے ہیں۔‘

گرل یا بوائے فرینڈ کی اجازت نہیں

گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ ہونا بھی کرائے پر فلیٹ لینے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

ایک نوجوان لڑکی نے بی بی سی کو بتایا ’آپ اپنے بوائے فرینڈ یا آپ اپنے مرد دوستوں کو فلیٹ پر مدعو نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ایک سکینڈل بن جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا ’میری چند دوستوں کو 24 گھنٹوں کے اندر فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا کیونکہ انھوں نے اپنے مرد دوستوں کو فلیٹ پر مدعو کیا۔‘

برا اثر

پراپرٹی ڈیلر اگروال کہتے ہیں کہ مالک مکان کا یہ بھی خیال ہے کہ غیر شادی شدہ افراد مالک مکان کے بچوں پر برا اثر ڈال سکتے ہیں کیونکہ وہ شراب اور سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

’جب بھی فلیٹ کے مالکان ہمارے پاس فلیٹ کرائے پر چڑھانے کے لیے آتے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے کہ کرائے دار غیر شادی شدہ نہ ہو۔‘

اگروال کا کہنا ہے ’میں ان سے متفق نہیں ہوں لیکن میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔ غیر شادی شدہ افراد کے لیے کرائے پر فلیٹ لینا بہت مشکل ہے۔‘