فیسوں میں اضافہ، میڈیکل کی تین طالبات کی خودکشی

Image caption تینوں طالبات نے کونیں میں چھلانگ لگا کر جان دی

بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں پولیس نے ایک پرائویٹ میڈیکل کالج کی فیسوں میں اضافے پر تین طالبات کے خودکشی کرنے کے واقعہ کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تین لڑکیوں نے گذشتہ ہفتے کو کالج کے احاطے میں واقع ایک کونیں میں چھلانگ لگا کر خود کش کر لی تھی۔

انھوں نے ایک تحریری چھوڑی ہے جس میں کالج انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ فیسیں وصول کر رہے ہیں اور ان فیسیوں کی رسید بھی فراہم نہیں کر رہے۔

اس واقع کے بعد طلبہ اور ان کے والدین نے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا ہے اور حکام سے واقعہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس وی ایس یوگا میڈیکل کالج کی اٹھارہ سالہ ای سرانیا، اٹھارہ سالہ وی پریانکا اور انیس سالہ مونیسا نے اپنی آخری تحریر میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ انتہائی زیادہ فیسیں لینے کے باوجود کالج میں سہولیات نہیں ہیں، مناسب اساتذہ نہیں ہیں اور کوئی پڑھائی نہیں ہے۔

Image caption کالج کے ہوسٹل کی ایک تصویر

ایک اعلٰی پولیس اہلکار نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ وہ کالج کے مالک واسکی سبرامنین کی تلاش کر رہے ہیں۔

ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اس میڈیکل کالج میں کوئی کلاس روم نہیں ہیں، لیباٹریاں نہیں ہیں اور کوئی تعلیمی عملہ نہیں ہے۔

Image caption میڈیکل کالج کی بوسیدہ عمارت

اس کالج میں سو طالبات زیر تعلیم ہیں اور ان سے صرف فیس کی مد میں پانچ ہزار روپے ماہانہ فی کس وصول کیے جا رہے ہیں۔ کالج میں وصول کی جا رہی فیسوں کے خلاف گذشتہ سال بھی احتجاج کیا گیا تھا لیکن اس مظاہروں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

اسی بارے میں