’انسٹاگرام امام‘ کی انٹرنیٹ پر مقبولیت

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM
یہ طالبات کے ساتھ باسکٹ بال کھیلتے ہیں، عیسائیوں کو کرسمس کی مبارک دینے کے لیے کرسمس ٹریز (درختوں) کے ساتھ تصاویر کھینچتے ہیں اور چائے تک بناتے ہیں۔ یہ ہیں ایرانی علماء کی کچھ ایسی تصاویر جنھیں شاید دنیا میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔

ایران میں کچھ علما کی روز مرہ زندگی کی چند تصاویر ایک انسٹا گرام کے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ہیں، جس کو اب تک 12 ہزار مداح حاصل ہوئے ہیں۔ انسٹا گرام پر اس صفحے کا نام ’طالب ٹو ڈے‘ رکھا گیا ہے۔

اسے ایران میں ’مسعود زریئن‘ نامی ایک مدرسے کے طالب علم نے بنایا ہے جس کا تعلق شمال مشرقی شہر مشہد سے ہے۔

وہ ملک کے قدامت پسند علما کو ایک بہتر نظریے سے دکھانا چاہتے ہیں اور روز مرہ کی زندگی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی علما کے بارے میں اکثر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ بہت جوش و جذبے سے عوامی تقاریر کرتے ہیں اور ’مغربی سامراج‘ کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM

آزاد خیال ایرانی شہری بھی شاید سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلامی جمہوریہ کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ملک میں سنہ 1976 میں ہونے والے انقلاب کے بعد ان علما کو معاشرے میں بہت اونچا درجہ دیا جاتا تھا۔

لیکن یہ مقبولیت آہستہ آہستہ کم ہوئی ہے کیونکہ کچھ ایرانیوں کا خیال تھا کہ یہ علما اپنی بتائی ہوئی نصیحتوں پر ہی عمل نہیں کرتے۔

زریئن ایک مذہبی طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دستاویزی فلم ساز اور ایرانی علما کے حامی بھی ہیں۔

انھوں نے ملک کے علما پر ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ اس لیے بنایا کیونکہ سوشل میڈیا پر انسٹاگرام کی ایپ ایران میں بہت مقبول ہے۔

ملک نے فیس بک اور ٹوئٹر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مسعود نے ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’کئی لوگ ہمارے بارے میں غلط سوچتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم مذہبی رہنماؤں کی عکاسی دودھ پیتے بچوں جیسی کریں گے تو لوگوں کا خیال ان کے بارے میں مزید برا ہو گا۔ ایک عالم بھی عام لوگوں کی طرح ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM

اب اس انسٹاگرام کے اکاؤنٹ کے مداح اس میں اپنی کھینچی ہوئی تصاویر بھی بھیجتے ہیں۔

ان کی تصاویر شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ زریئن مختلف مذہبی رہنماؤں کے مشورے بھی لگاتے ہیں۔

مثال کے طور پر زریئن نے ایک کرسمس ٹری کے ساتھ کھڑے ہوئے ایک عالم کی تصویر شیئر کی۔

کچھ لوگوں نے اس صفحے کے پیچھے محرکات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک صارف نے کچھ بچوں کے ساتھ ایک عالم کی فٹبال کھیلتے ہوئے تصویر پر تبصرہ کیا کہ: ’کیا یہ حرکت ہمدردی کی وجہ سے کی گئی یا لوگوں پر اپنا اثر رسوخ ڈالنے کے لیے؟‘

ایک خاتون نے شکایت کی کہ ان تصاویر میں کسی طالبہ کی تصویر نہیں شامل کی گئی اور ایڈمنسٹریٹر کو خواتین کی تصاویر بھی شیئر کرنی چاہیئں۔

اسی بارے میں