زکا وائرس کی وجہ سےٹاٹا کی گاڑی کا نام تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ TATA
Image caption زِکا نامی اس چھوٹی کار کی مارکیٹنگ میں بارسلونا کے فٹ بالر لیونل میسی کو شامل کیا گیا تھا

زکا وائرس کو عالمی خطرہ قرار دیے جانے کے بعد بھارت کی ٹاٹا موٹرز نے اپنی نئی گاڑی زکا ہیچ بیک کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹاٹا موٹرز بھارت میں گاڑیاں بنانے والے سب سے بڑی کمپنی ہے اور وہ نئی گاڑی کے نام کے اس بیماری کے نام سے ملتے جلتے صوتی تاثر کی وجہ سے اسے تبدیل کر رہی ہے۔

ٹاٹا موٹرزکی جانب سے حالیہ ہفتوں میں زِکا نامی اس چھوٹی’زپی کار‘ کی بہت بڑے پیمانے پر مارکیٹنگ کی جا رہی تھی جس میں بارسلونا کے فٹ بالر لیونل میسی کو شامل کیا گیا تھا۔

لیکن یہ گاڑی ایسے وقت میں لانچ کی گئی جب بد قسمتی سے لاطینی امریکہ میں زکا وائرس پھیل رہا ہے جو وہاں نو مولود بچوں میں دماغی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’سماجی طور پر ایک ذمہ دار کمپنی ہونے کے ناطے زکا وائرس سے بیشتر ممالک کو درپیش مسائل کا احساس کرتے ہوئے ٹاٹا موٹرز نے اپنی کار کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

نوجوانوں کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی یہ کار رواں ہفتے دہلی میں ہونے والے آٹو ایکسپو میں عوامی نمائش کے لیے بھی پیش کی جانے والی تھی۔

بیان کے مطابق اس موقعے پر ’Zica‘ کا ہی لوگو استعمال ہو گا اور تمام ضروری برانڈنگ اور ضوابط پوری کرنے کے بعد نیا نام چند ہفتوں میں سامنے آئے گا۔

عالمی ادرۂ صحت نے پیر کو زکا وائرس کو عالمی سطح پر صحت کے لیے خطرہ قرار دیا اور اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات کرنے پر زور دیا تھا۔ یہ وائرس 20 ریاستوں میں پھیل چکا ہے۔

برازیل نے حاملہ خواتین کو اگست میں شروع ہونے والے اولمپکس میں شرکت سے منع کیا ہے۔

زکا واڑیس پہلے مرتبہ یوگینڈا کے جنگلوں میں سنہ 1947 میں سامنے آیا تھا لیکن اسے اس وقت نسبتا کم خطرناک بیماری شمار کیا گیا تھا تاہم اب یہ لاطینی امریکہ میں شدت کے ساتھ پھوٹی ہے۔

اسی بارے میں