’دنیا کی سب سے خوش قسمت مسافر‘

تصویر کے کاپی رائٹ WEIBO
Image caption چین کی خوش قسمت مسافر مس ژانگ

پاؤں پھیلانے کے لیے بہت زیادہ جگہیں، ذاتی خدمت ملنا، کوئی رونے والے بچوں کا نہ ہونا اور نہ ہی کسی بدتمیز ساتھی مسافر کو برداشت کرنے کا جھنجٹ۔

یہ تجربہ چین میں ایک خوش قسمت مسافر نے اُس وقت کیا جب وہ نئے سال کی چھٹی کے موقع پر گوانگ ژو سے اپنے گھر جارہی تھیں۔

پروازوں میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مس ژانگ کے سوائے تمام دیگر مسافروں نے پہلے اڑنے والی ایک پرواز پکڑ لی، جس کے بعد خاتون کو اس ’راک سٹار‘ سفر کا تجربہ حاصل ہوا۔

مس ژانگ نے ٹرین کے بجائے پرواز لینے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا تھا تاکہ وہ مزید تاخیر سے بچ سکیں جس کی وجہ سے اس ہفتے گوانگ ژو سٹیشن پر تقریباً ایک لاکھ افراد نے پریشانی کا سامنا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گوانگژو سٹیشن پر تقریباً ایک لاکھ افراد نے مصیبت کا سامنا کیا
تصویر کے کاپی رائٹ WEIBO
Image caption پروازوں میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مس ژانگ کے سوائے تمام دیگر مسافروں نے پہلے اڑنے والی ایک پرواز پرواز پکڑ لی، جس کے بعد خاتون کو اس ’راک سٹار‘ سفر کا تجربہ حاصل ہوا

یہ برفباری جس نے ٹرین میں بدنظمی پیدا کی وہیں اس کی وجہ سے مرکزی ویان میں کئی پروازوں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔جس میں گوانگ ژو جانے والی مس ژانگ کی پرواز سی زیڈ 2833 بھی شامل تھی۔

زیادہ تر مسافروں نے قریب ترین کی پرواز سے جانے کی پیشکش کو قبول کرلیا لیکن ژانگ نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور پرواز اُنھیں ایک واحد مسافر کے طور پر لے کر نکلی۔

چین کی مقبول بلاگنگ ویب سائٹ کے پلیٹ فارم ویبو پر انھوں نے اپنے ’خوش کُن‘ تجربے کو تحریری شکل میں لکھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں بہت خوشی محسوس کررہی ہوں۔ یہ میری زندگی کا نیا اور غیرمعمولی تجربہ تھا۔ میں خود کو ایک راک سٹار محسوس کررہی تھی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر اُن کے خاندان کے تمام افراد چھٹیوں کے لیے گھر کی جانب پرواز کررہے تھے۔

انھیں دورانِ پرواز ذاتی خدمت اور پرواز کی میزبانوں اور پائلٹ کی جانب سے خصوصی توجہ بھی ملی۔

’نئے سال کی خوش قسمت ترین مسافر‘

ویبو پر اُن کی اس پوسٹ پر چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی جانب سے اُنھیں ہزاروں لائکس، شیئر اور تبصرے ملے۔

ایک ویبو صارف نے تبصرہ کیا ’پرواز کرنے کا کیا انوکھا انداز ہے۔ آپ یقیناً بہت خوش قسمت ہیں جنھوں نے اس طرح کی مہمان نوازی کا تجربہ کیا بالخصوص ایک ایسے بدنظمی سے بھرپور سفری اوقات میں۔‘ ایک ویبو صارف نے ایک سالانہ انسانی ’نقل مکانی‘ کا حوالہ دیا جس میں لاکھوں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ چین کے نئے سال کے لیے ملک بھر سے اپنے گھروں کی جانب سفر کرتے ہیں۔

ایک اور نے کہا ’ہمشیرہ، آپ واضح طور پر دنیا کی خوش قسمت ترین مسافر ہیں۔ اس سے لطف اندوز ہوں۔‘

لیکن دوسروں کا خیال تھا کہ یہ ایک ایئر لائن کی جانب سے کی گئی ’بے تحاشا فضول خرچی‘ تھی جس نے صرف ایک مسافر کے لیے چارٹرڈ پرواز کی۔

ایک چینی نیٹ کے صارف نے رائے دیتے ہوئے کہا ’نئے سال کے موقع پر جب ہزاروں لوگ جو گھر جانے کی کوشش میں کچلے گئے ایسے موقع پر ایسی پرواز کیا فضول خرچی نہیں ہے؟

ایک اور صارف نے محسوس کیا کہ ایئرلائن ’کو انتظار کرنا چاہیے تھا‘ اور زیادہ مسافر واپس پہنچتے۔ انھوں نے مزید کہا ’اس سے ایندھن کا بہت زیادہ زیاں ہوا۔‘

گولڈن ٹکٹ کی قیمت کی بات کی جائے تو؟ موٹر کمپنی کی ایک ملازم اس کی قیمت 181 ڈالر کے لگ بھگ بتاتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’کیوں کہ اس کی ادائیگی میری کمپنی کو کی گئی تھی اس لیے میں اس کی اصل قیمت سے واقف نہیں ہوں۔‘