بھارتی وکیل نے ’رام‘ پر مقدمہ کیوں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Geeta Panday
Image caption رام سنسکرت زبان میں 24 ہزار قطعات پر مشتمل ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کے مرکزی کردار ہیں

بھارت میں ایک وکیل چندن کمار سنگھ نے حال ہی میں ہندوؤں کے بھگوان ’رام‘ کے خلاف مقدمہ کر کے اپنے کئی ہم وطنوں کو حیران کر دیا ہے۔

رام سنسکرت زبان میں 24 ہزار قطعات پر مشتمل ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کے مرکزی کردار ہیں اور بھارت سمیت دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔

چندن کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ’بھگوان کے اوتار رام نے اپنی بیگم سیتا کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا‘ اور وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی ریاست بہار کی عدالت ’اس حقیقت کو تسلیم کرے۔‘

دوسری جانب عدالت نے ان کے نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے ان کی درخواست ’مقدمہ چلائے جانے کے قابل‘ نہ ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی تھی۔

یہی نہیں بلکہ ان کے ساتھی وکلا کی جانب سے ان پر ’شہرت حاصل کرنے‘ کا الزام لگایا جا رہا ہے اور ان کے ایک ساتھی نے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔

چندن سنگھ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ انھیں اب بھی مکمل یقین ہے کہ ان کا مقدمہ قانونی طور پر درست ہے۔

اپنی بات کی دلیل دینے کے لیے وہ مذہبی صحیفوں کا حوالہ بھی استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بات سب جانتے ہیں کہ رام نے شیطان راون کے چنگل سے سیتا کو چھڑانے کے بعد سیتا سے پاکیزگی کا ثبوت طلب کیا تھا۔ انھیں سیتا پر بھروسہ نہیں تھا۔

’سیتا کے ساتھ رام کے رویّے سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم زمانے میں بھی خواتین کا احترام نہیں کیا جاتا تھا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ لوگوں کو یہ مقدمہ مضحکہ خیز لگے گا، لیکن ہمیں اپنی قدیم مذہبی تاریخ کے اس حصے پر بات کرنی ہوگی۔ میں ایک بار پھر مقدمہ دائر کروں گا کیونکہ میں واقعی سمجھتا ہوں کہ بھارتیوں کو یہ بات تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ رام کا رویہ سیتا کے ساتھ درست نہیں تھا۔‘

انھوں نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ وہ یہ سب محض شہرت کے حصول کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔

چندن کمار سنگھ نے کہا کہ ’میں نے مقدمہ اس لیے دائر کیا تھا کیونکہ ہم آج کے بھارت میں خواتین کے احترام کی بات نہیں کر سکتے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سب سے زیادہ قابل احترام بھگوان اپنی بیوی کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش نہیں آئے تھے۔‘

انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انھیں لوگوں کے اتنے شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید تھی کہ چند اعتراضات سامنے آئیں گے لیکن میں نے نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ کام کرنے والے میرے خلاف ہو جائیں گے۔ میں صرف انصاف کی بات کر رہا تھا، میرا مقصد ہر گز کسی کےمذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔

’کیا خواتین کے لیے انصاف تلاش کرنا غلط ہے؟ عدالت اگر میری درخواست منظور کر لیتی تو اس سے ایک مثبت پیغام باہر جاتا کہ بھارتیوں کی نظر میں خواتین کا احترام کتنا ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Hemendra Kumar Singh
Image caption چندن سنگھ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید سے مرعوب نہیں ہوئے ہیں بلکہ انھیں اب بھی مکمل یقین ہے کہ ان کا مقدمہ قانونی طور پر درست ہے

دوسری جانب سنگھ کے ساتھی وکلا ان سے متفق نظر نہیں آتے۔

وکیل رانجن کمار سنگھ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی درخواست نے ’ہندوؤں کی بے عزتی‘ کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ ماضی میں بھی شہرت حاصل کرنے کےلیے مقدمے دائر کرنے کی درخواست کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس بار انھوں نے حد پار کر لی ہے۔ انھوں نے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔‘

رانجن کمار سنگھ نے اپنے ساتھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کر دیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے بار کونسل سے بھی ان کا قانون کی پریکٹس کرنے کا لائسنس منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ چندن کے خلاف تمام وکلا متحد ہیں اور انھیں سبق سکھانا ضروری ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری نظر میں رام اور سیتا ایک ہیں اور ہم ان کی پوجا بطور ایک جوڑے کے کرتے ہیں۔ ہماری نظر میں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم سوچیں بھی کہ رام کا رویہ سیتا کے ساتھ درست نہیں تھا۔‘

اُدھر چندن کمار سنگھ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ’ان کی لڑائی رام کے خلاف نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بھی رام کی پوجا کرتا ہوں۔ میں ہندو مذہب پر عمل کرنے والا شخص ہوں۔ اگر میں نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں معافی کا خواستگار ہوں، لیکن میں اس بات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کہ سیتا کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں