ملا حسن، نرم گو مگر سخت مزاج افغان طالبان رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملا حسن رحمانی طالبان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک تھے

سنہ 1997 میں قندہار شہر کے دورے کے دوران ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ پاؤں میں سستے پلاسٹک کے چپل، عام سے کپڑے اور واسکٹ پہنے ایک شخص ہاتھ میں واکی ٹاکی لیے ہوئے خاصے مصروف دکھائی دے رہے تھے۔

جب مجھے بتایا گیا کہ یہ شخص افغانستان میں طالبان تحریک کے سرکردہ رہنما اور قندہار کے گورنر ملا محمد حسن رحمانی ہیں تو حیرت ہوئی۔

ہمیں اقوام متحدہ کے منشیات کے تدارک کے ایک پروگرام کے سلسلے میں قندہار کی خاک ریز اور دیگر افیون کے کاشت کے علاقوں کے دورے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ وہیں چلتے پھرتے ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ٹانگ سے لنگڑاتے تھے جس کی وجہ روسیوں کے خلاف ارغنداب کے علاقے میں لڑائی میں ان کی ٹانگ میں گولی لگنا تھی۔ مختصر گفتگو میں انتہائی نرم گفتار ظاہر ہوئے۔

اب 55 سال کی عمر میں ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی ہے۔

ملا حسن رحمانی طالبان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک تھے۔ ملا محمد عمر اور ملا حسن کی موت سے اس تحریک کی داغ بیل ڈالنے والے اہم رہنما ختم ہو رہے ہیں۔

ان کی ملا محمد عمر سے رشتہ داری بھی تھی۔ لیکن خاندانی تعلقات کے علاوہ ان کا کردار تحریک چلانے میں بہت اہم تھا اسی لیے بہت اہم طالبان عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا تعلق بھی اروزگان صوبے میں چارچینو ضلع میں آباد پشتونوں کی اچکزئی قوم سے تھا۔ وہ طالبان کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی تھے اور اپنے آخری دنوں میں کابل حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں بھی شریک تھے۔ وہ ان طالبان رہنماؤں میں سے ایک تھے جو جولائی میں مری میں ہونے والے پہلے دور میں شامل تھے۔

وہ رویے کے سخت تھے اور انھوں نے ایک مرتبہ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کو غصے میں جگ بھی دے مارا تھا۔ ایک مرتبہ سابق فوجی آمر ضیاالحق کے بیٹے اعجاز الحق اور آج کل وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی قندہار گئے تو دیکھا کہ گورنر پیدل دفتر آ رہے ہیں۔ اعجاز الحق نے عرفان سے دریافت کیا کہ یہ کیوں، تو انھوں نے کہا کہ جس گاڑی میں وہ دونوں دفتر آئے ہیں یہ انھی کی ہے۔

طالبان تحریک کے کئی دیگر رہنماؤں کی طرح ملا حسن بھی مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی کے کمانڈر بننے سے قبل افغانستان اور پاکستان کے مدارس میں زیر تعلیم رہے تھے۔ ان کا بلوچستان میں پشین ضلعے میں ملا عبدالستار کے مدرسے کے علاوہ اکوڑہ خٹک میں قائم معروف دارالعلوم حقانی اور کراچی کے فاروقیہ مدرسہ سے بھی تعلق رہا تھا۔ انھوں نے سنہ 1994 میں طالبان میں شمولیت اختیار کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک انٹرویو میں انھوں نے قطر میں طالبان کے دفتر پر پرچم نہ لہرانے کے حکم پر ناراض ہو کر امریکہ کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا

سمتبر 2013 میں ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کو اردو میں دیےگئے ایک انٹرویو میں قطر میں ان کے دفتر پر پرچم نہ لہرانے کے حکم پر ناراض ہو کر انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان کی موت کی وجہ یرقان کا مرض بتایا جا رہا ہے۔ ان کے مقام رحلت کے بارے میں بھی متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بعض غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ کراچی کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھے، لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان کی موت ایک مرتبہ پھر ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ممالک کا گروپ اس ماہ کے اواخر میں کابل حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست بات چیت کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں