بھارت میں روحانیت کا کاروبار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معروف یوگا گرو بابا رام دیو بھارت کی تیزی سے پھیلتی ہوئی کمپنی کے مالک ہیں

بھارتی گرو نوڈلز اور اس قسم کی دوسری چیزیں کیوں بیچ رہے ہیں؟

معروف یوگا گرو بابا رام دیو بھارت کی ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی ایک کمپنی پتنجلی کے مالک ہیں جسے فوربز میگزین نے ’باڈی شاپ کا بھارتی ورژن‘ قرار دیا ہے۔

زعفرانی پوشاک میں ملبوس باریش رام دیو شہید صحت افزا مشروبات، پھلوں کے رس، مٹھائیاں، بسکٹ، مصالحے، چائے، چینی، آٹا، ناشتے کی غذا، اچار، شیمپو، بام، صابن اور نوڈلز بیچتے ہیں۔

وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حامی ہیں اور انھوں نے نیسلے کی مشہور میگی نوڈلز کا مقابلہ کیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان کے نوڈلز کے معیار کے بارے میں ابھرنے والے خدشات کے قطع نظر وہ اپنے برانڈ کی ایسی ہی دیگر مصنوعات کا صحت افزا متبادل کے طور پر تشہیر کر رہے ہیں۔

گرو کے نوڈلز مارکیٹ میں خاصے پسند کیے جا رہے ہیں۔

بابا رام دیو کی کاروباری کامیابی کے بعد ایک اور گرو گرمیت رام رحیم سنگھ نے بھی اشیائے خورونوش متعارف کروائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Patanjali
Image caption بابا رام دیو گرو کے نوڈلز مارکیٹ میں خاصے پسند کیے جا رہے ہیں

سٹیج پر اپنی بھڑکیلی پرفارمنس اور سینیما میں راک سٹار اور بائیکنگ ہیرو کے طور پر شہرت رکھنے والے یہ گرو اب اچار، بوتل والا پانی اور نوڈلز بیچیں گے۔

یہ گرو ایک بڑھتے ہوئے فرقے کے سربراہ ہیں، اور وہ اب چاہتے ہیں کہ ’قوم صحت بخش غذا کے استعمال کر کے صحت مند ہو۔‘

ان متنازع رہنما کی ویب سائٹ پر 117 ’انسان دوست پر مبنی سرگرمیوں‘ کی فہرست موجود ہے، جن میں ہم جنس پرستی کا خاتمہ، ایک بین الاقوامی بلڈ بینک کا قیام، سبزی خوری کی ترویج اور پرندوں کو کھانا ڈالنا شامل ہیں۔

جنوبی بھارت میں سری سری روی شنکر متوسط اور بالائی طبقے میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی آریوویدک مصنوعات ہیں، جن میں ٹوتھ پیسٹ، پروٹین شیمپو، ہربل چائے، ذیابیطس کش گولیاں، بام اور سیرپ شامل ہیں جو بنگلور میں ’ورلڈ کلاس‘ انداز میں تیار کی جاتی ہیں۔

ملک کی سب سے مشہور خاتون گرو ماتا امرتا نندمئی ہپستال، ٹی وی چینل، انجنیئرنگ کالج اور بزنس سکول بھی چلاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیشتر کامیاب ترین گرو حکومتوں کے حامی ہیں اور وہ سیاسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں

سری ستیا سائی بابا جو نارنجی چغے میں رہتے تھے اور ان کے بالوں کا افریقی انداز تھا۔ سنہ 2011 میں اپنے پیچھے اربوں ڈالر کا کاروبار چھوڑ کر گئے تھے جن میں ہسپتال، کلینک اور یونیورسٹیاں شامل تھیں۔

بھارتی گروؤں نے اپنے بے شمار عقیدت مندوں اورسیاسی اور کارباری نیٹ ورکس کو کاروباری کامیابی کے لیے استعمال کیا ہے۔

ابتدائی دنوں میں انھوں نے مشرق اور مغرب میں یوگا کے ذریعے پیسے بنائے۔ مثال کے طور پر مہیش یوگی نے لاکھوں غیرملکیوں کو یوگا اور مراقبہ پیچا۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے، اور گروؤں نے بھی اس تبدیلی کو قبول کیا ہے۔

سیاست دانوں کی تھوڑی بہت مدد سے گرو مضبوط سے مضبوط تر ہوئے ہیں۔

گروؤں کی اپنے مداحوں اور ملک میں شرح خرید میں اضافے کے باعث ان کی تیار کردہ اشیا کی فروخت میں مدد ملتی ہے۔ بیشتر گرو ملک کی قدیم تہذیب کو مدنظر رکھتے ہوئے آریوویدک اور نامیاتی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MSG
Image caption گرو گرمیت رام رحیم سنگھ نے بھی اشیائے خورونوش متعارف کروائی ہیں

بیشتر کامیاب ترین گرو حکومتوں کے حامی ہیں اور وہ سیاسی ذہن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔

ماہرِ بشریات اور ہندو مذہب کے کاروبار کے ساتھ تعلق پر کتاب ’ڈیوائن انٹرپرائز‘ کے مصنف لیز میک کین کے مطابق: ’گرو چاہے اصلی ہوں یا نقلی، روحانیت کے کاروبار اور سیاست میں اہم کردار ہیں۔‘

’1980 اور 1990 کی دہائی میں بہت سارے گروؤں کی سرگرمیاں بیک وقت بھارت اور بیرون ملک تبدیل ہوتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے پھیلاؤ سے متعلق تھا۔‘

چنانچہ غیرملکیوں کو یوگا بیچنا اب تقریباً پرانی بات ہو چکی ہے۔ نئے دور میں گروؤں نے اپنے عقیدت مندوں سے بڑھ کر بھارت کی مقامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے پر نظریں جمائی ہیں۔ چنانچہ اب ان کی مصنوعات ملحدوں میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشہور خاتون گرو ماتا امرتا نندمئی ہپستال، ٹی وی چینل، انجنیئرنگ کالج اور بزنس سکول چلاتی ہیں

ماہر عمرانیات شیو وشواناتھ نے بابا رام دیو کی مصنوعات فروخت کرنے والی 20 دکانوں کا دورہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ مصنوعات سے بےحد متاثر ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’آٹا بہترین معیار کا ہے، شیمپو اچھا ہے۔ بسکٹ جو جلد ہی چائے میں گھل جاتے ہیں، برے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ بابا رام دیو نے بھارتی گھرانے ’صحت، دوائی اور کاسمیٹکس‘ کے چکر کو اچھے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔

شیو وسواناتھن کہتے ہیں کہ ’رام دیو جیسے گرو ہمیں بتا رہے ہیں کہ صحت روحانیت ہے۔‘

واضح طور پر روحانی سرمایہ داری زندہ ہے اور بھارت میں اچھی خاصی ہے۔ روحانیت کے محل تعمیر ہو رہے ہیں۔ ایک گرو کا جملہ مشہور ہے کہ عبادت سے دولت آتی ہے۔

اس کا پیغام اپنے ان عقیدت مندوں کے لیے تھا جو عطیات سے اجتناب کر رہے تھے، تاہم یہی بات گروؤں پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں