مظفّرنگر فسادات: گواہ منحرف ہونے ملزمان بری

Image caption اقبال 12 سالہ آس محمد کے والد ہیں جسے دو برس قبل ہونے والے پر تشدد مذہبی فسادات کے دوران ہلاک کردیا گيا تھا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے مغربی ضلع مظفرنگر کے قصبے کاندھلا سے کچھ فاصلے پر ہی امن کالونی ہے۔ یہاں اقبال اپنے گھر میں اندھیرے میں بیٹھے ہیں۔ بہت دیر سے ان کی کالونی میں بجلی نہیں ہے۔

اقبال 12 سالہ آس محمد کے والد ہیں جسے دو برس قبل ہونے والے پر تشدد مذہبی فسادات کے دوران ہلاک کردیا گيا تھا۔

ان فسادات کے دوران اقبال پگانا میں رہتے تھے جہاں سنہ 2013 میں زبردست تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ آس محمد کے ساتھ ہی بلوائیوں نے ان کی چچی رجّو کو بھی قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد اقبال اور ان کے بھائی کا خاندان بھاگ کر کاندھلا آ گیا۔ مظفر نگر کی عدالت میں اس واقعے میں دو الگ الگ لوگوں کے قتل کو ایک مقدمہ بنایا گیا اور مجموعی طور پر 13 افراد کو ملزم قرار دیا گیا جبکہ ایک نابالغ سمیت کل 11 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ان دونوں مقدمات میں تمام ملزمان عدالت سے اس لیے بری کر دیے گئے کیونکہ مقدمے کے گواہ گواہی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اقبال کے گھر اب بھی ماتم کا سماں ہے۔

Image caption سلمی اس فیصلے سے کافی ناراض ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کا کیس پہلے ہی کمزور کر دیا گیا تھا

اقبال کا کہنا ہے ’اب تو جو فیصلہ کرنا ہوگا وہ اللہ ہی کرے گا، ہم کچھ نہ کریں گے۔ جو ہو رہا ہے، اللہ کی مرضی سے ہی ہو رہا ہے۔ اس عدالت نے بری کر دیا تو کوئی نہیں۔ غلطی کی سزا تو ملے گی۔ یہاں نہیں تو اس عدالت میں۔‘

وہیں ان کی بیوی سلمیٰ بھی اس فیصلے سے کافی ناراض ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا مقدمہ پہلے ہی کمزور کر دیا گیا تھا۔ ’جو لوگ عدالت میں ہماری طرف سے لڑ رہے تھے، انھوں نے ہی مقدمہ کچھ کمزور کر دیا۔‘

اقبال کا کہنا ہے کہ گواہوں کے منحرف ہونے سے سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا ’اس سے بڑھ کر بوجھ کیا ہوگا جب اولاد کو باپ کے سامنے ہی قتل کر دیا جائے؟ یہ جو ہمارے وکیل ہیں، فسادات کے سارے کیس انھیں کے پاس ہیں۔ اب انھوں نے کیا کیا، کیا نہیں، ہمیں تو پتہ نہیں ہے۔‘

ظاہر سی بات ہے کہ سارا الزام کیس کے سرکاری وکیل پر ہے۔ اُن پر یہ الزام ہے کہ عدالت مقدمات کی صیحی پیروی نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فسادات سے متاثرہ بہت سے لوگ اب بھی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں

سرکاری وکیل ساجد رانا سے جب بات کی گئي تو ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں گواہوں کے مكرنے کو وہ نہیں روک سکتے۔

وہ کہتے ہیں ’اب اگر عدالت میں گواہ مکر رہے ہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ میری تو کوئی غلطی نہیں ہے۔‘ ساجد رانا کا الزام ہے کہ خود ان کے مکلوں نے ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔

سماجی تنظیموں کے رپورٹ کے بعد ریاستی حکومت نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک آئندہ قند روز میں اپیل دائر بھی کر دی جائے گی لیکن قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب گواہ نچلی عدالت میں ہی بدل گئے تو پھر وہ اعلی عدلیہ میں بھی زیادہ کچھ نہیں بول پائیں گے۔

اسی بارے میں