افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنگ کے نتیجے میں گذشتہ سال سنہ 2015 میں مجموعی طور پر 3545 شہری ہلاک ہوئے

اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ طویل جنگ کے سلسلے میں عام شہریوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے نتائج خواتین اور بچوں پر نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں گذشتہ سال سنہ 2015 میں مجموعی طور پر 3545 شہری ہلاک ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 7457 رہی۔

ہر چند کہ سنہ 2014 کے مقابلے ہلاکتوں میں چار فی صد کی کمی آئی ہے لیکن زخمیوں کی تعداد میں نو فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے اسسٹینس مشن کا کہنا ہے کہ سنہ 2009 کے بعد سے افغانستان میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بچوں کی ہلاکتوں میں 14 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا ہے

اس میں کہا گيا ہے کہ مرنے والوں میں دس فی صد خواتین ہیں جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے 37 فی صد زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ مرنے والوں میں بچوں کا فی صد 25 رہا جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے 14 فی صد زیادہ ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں دونوں جانب سے ہونے والی فائرنگ میں ہوئی ہیں۔

’مسلح جنگ میں شہریوں کا تفحظ‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ سالانہ رپورٹ موقعۂ واردات پر کی جانے والی جانچ پر مبنی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shaqayiq
Image caption جنگ کے سبب متاثرہ خواتین میں 37 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے

اس میں کہا گیا ہے کہ 62 فی صد ہلاکتیں حکومت مخالف گروپوں کی جانب سے ہوئی ہیں جن میں طالبان شامل ہیں جو گذشتہ 15 برسوں سے حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

اس کے علاوہ 17 فی صد ہلاکتیں حکومت کے حامی گروہوں کی جانب سے ہوئی ہیں جبکہ بین الاقوامی فورسز کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد دو فی صد ہے۔

رپورٹ میں کابل پر ہونے والے بڑے حملوں کو بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سات اگست کو ہونے والے حملے میں 355 شہری متاثر ہوئے تھے جن میں 43 ہلاک جبکہ باقی 312 زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں