بھارت کی شاہی خواتین

Image caption یہ تصویر کیرالہ کی ٹروینکور کی رانی سیتھو پارواتھی بائی اور رانی سیتھو لکشمی بائی کی ہے۔ بشکریہ جیا چندرن/ تصویر

1947 میں آزادی کے بعد بھارت میں شاہی خاندان اپنے سرکاری اختیارات کھو چکے ہیں۔ ان شاہی خاندانوں جنھوں نے ایک عرصہ تک ملک کے بڑے بڑے حصوں پر حکمرانی کی، ان کے اب بھی تجسس پایا جاتا ہے۔

ایسے مہاراجے اور مہارانیاں جن کے بارے دلچسپی اور تجسس ان کے خاندان اب بھی امیر اور بااثر ہیں۔

جے پور کی مہارانی گیاتری دیوی، جنھوں نے ملک میں عورتوں کی تعلیم کے لیے بہت جہدوجہد کی اور ان کا نام ووگ میگزین کی خوبصورت ترین عورتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا، لیکن بھارت کی شاہی خواتین کی زندگی کے بارے میں لوگوں زیادہ معلومات مہیا نہیں ہیں۔

فوٹوگرافی سٹوڈیو ’تصویر‘ نے بھارت کے شاہی خاندانوں کے بارے کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی سہی میں بھارتی ملکاؤں اور شہزادیوں کی تصاویر اکٹھی کی ہیں اور ان تصاویر کو ’مہارانی: ویمن آف رائل انڈیا‘ کے نام سے نمائش کا انتظام کیا ہے۔

’تصویر سٹوڈیو‘ کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو بھارت اور بیرون ملک عجائب گھروں سے حاصل کیاگیا ہے۔ یہ تصاویر جن عجائب گھروں سےحاصل کی گئی ہیں ان میں میوزیم آف آرٹ اینڈ فوٹوگرافی انڈیا، امر محل میوزیم اور جموں لائبریری کے علاوہ لندن کےوکٹوریا میوزیم، البرٹ میوزیم اور نیشنل پورٹریٹ گیلری شامل ہیں۔

Image caption یہ تصویر گجرات کے کوٹڈا سنگانی کی مہارانی ٹھاکورانی وجے لکشمی دیوی صاحبہ ہے۔ تصویر بشکریہ ارمیلا دیوی
Image caption یہ تصویر پٹیالہ کی مہارانی رانی یشودا کی ہے جسے ویندک سٹوڈیو لندن نے 1930 میں بنایا۔ بشکریہ ایم اے پی/ تصویر
Image caption یہ تصویر رانی پریم کور آف پٹیالہ کی ہے جسے راجہ دین دیال نے 1915 میں بنایا تھا: بشکریہ ایم اے پی/تصویر
Image caption یہ تصویر شہزادی رفعت زمانی بیگم یا بڑی بیگم صاحبہ آف رام پور کی ہے۔ یہ تصویر کنسی سٹوڈیو نے1960 میں بنائی: بشکریہ ایم اے پی/ تصویر
Image caption یہ تصاویر مہارانی آف برودا شری منت گجرا بائی کی ہے جسےلالہ دین دیال نے 1891 میں تیار کیا: بشکریہ ایم اے پی/ تصویر
Image caption یہ تصویر مہارانی گیاتری دیوی آف جےپور کی ہے جو شہزادی عائشہ آف کوچ بہار کے نام سے بھی جانی جاتی تھیں۔ یہ تصویر ڈیرک ایڈکنز نے 1951 میں بنائی۔بشکریہ ایم اے پی/ تصویر