کمار کی گرفتاری نظریاتی سیاست کا نتیجہ؟

بی بی سی کے نامہ نگار وکاس پانڈے نے دہلی کی مشہور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں دن گزارا جہاں طلبہ رہنما پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

اس یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے قریب پرجوش طالب علم جمع ہیں۔ جیسے ہی کوئی طلبہ رہنما تقریر کے لیے سٹیج پر آتا ہے تو اس کا پرجوش طریقے سے استقبال کیا جاتا ہے۔

جیسے جیسے پرجوش طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ’کنہایا کمار کو رہا کرو‘ اور ’انقلاب زندہ باد‘ جیسے نعروں کی گونج میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مظاہرے میں شامل طلبہ کا کہنا ہے کہ کمار پر غداری کا مقدمہ غلط بنایا گیا ہے اور انھیں حیرت اس پر ہے کہ پولیس سنیچر کے روز یونیورسٹی میں داخل ہوئی۔

پولیس نے الزام لگایا ہے کہ کمار نے 2001 میں پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی پانے والے افضل گورو کی پہلی برسی پر احتجاج کیا اور ’بھارت مخالف نعرے‘ لگائے۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سے جب پوچھا گیا کہ اس دن کیا ہوا تھا تو انھوں نے کمار کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔

ایک طالب علم نے کہا ’ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔ ہم صرف طلبہ ہیں اور ہم بھی بھارت مخالف نعروں کی مذمت کرتے ہیں۔ اس موقعے پر بھارت مخالف نعروں سے ہمارے صدر کا کوئی تعلق نہیں۔‘

تاہم اس طلبہ نے کیمرے کے سامنے بات کرنے سے منع کر دیا۔

’میں کیمرے کے سامنے نہیں آنا چاہتی۔ مجھے اپنی حفاظت پیاری ہے۔‘

Image caption تقاریر کے بعد نہرو یونیورسٹی کی سابق طالبہ اور آرٹسٹ مایا راؤ نے پرفارم کیا

ایک اور طلبہ شریا گھوش نے یونیورسٹی میں خوف کی فضا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’گرفتاری کے ڈر سے ہم ہر رات مختلف کمروں میں سوتے ہیں۔‘

ایک اور طلبہ دیشیتا نے دعویٰ کیا کہ نظریاتی سیاست کے باعث کمار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ’دائیں بازو کے سٹوڈنٹس یونیورسٹی میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے کمار کو گرفتار کرایا۔‘

پروفیسر راجرشی داش گپتا اس بات سے متفق ہیں۔

سہ پہر کے تین بج چکے ہیں اور تقاریر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی پر کی جانے والی تنقید میں سختی آتی جا رہی ہے۔

پروفیسر اجیتھ کنا تقریر کے لیے آئے اور کہا ’اگر کمار قوم پرست نہیں تو میں بھی قوم پرست نہیں۔‘

تاہم انھوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

یونیورسٹی کے کیمپس میں بہت افواہیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک افواہ یہ ہے کہ کیمپس میں ایک سو مسلح دائیں بازو کے کارکنان داخل ہو گئے ہیں۔

دائیں بازو کے طلبہ گروپ کے کارکن سورابھ کمار سے میں ملا جو مظاہروں کی جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’قانون اس بات کا فیصلہ کرےگا کہ کمار مجرم ہے یا نہیں لیکن ہم کیمپس میں بھارت مخالف حرکات و سکنات برداشت نہیں کریں گے۔‘

لیکن ہر کوئی اس احتجاج کا حصہ نہیں ہے۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ بباس سیوا اور بجے تھاپا نے کمار کی گرفتاری کی مذمت کی لیکن کہا کہ مظاہروں کی وجہ سے ان کی تعلیم میں تعطل آگیا ہے۔

اگرچہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو سیاست نے گرفت میں لے رکھا ہے لیکن کچھ طلبہ اپنی تعلیم کا سلسہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں