بنگلہ دیش میں آزادیِ صحافت کچلنے کی کوشش

جب صحافی آزادیِ صحافت کی اہمیت کے بارے میں لکھیں تو یہ تھوڑا خود پسندی جیسا لگتا ہے، بالکل ایسے ہی جب کوئی شیف اپنے نفیس کھانے کی خوبیاں بیان کرے یا نائی بالوں کے نئے سٹائل کی مداح سرائی کرے۔

لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اُن کے ملک میں کیا ہو رہا ہے اوریہی آزاد معاشرے کی بنیاد کہلاتی ہے۔

جمہوریت میں معلومات تک آزادانہ طریقے سے رسائی کے بغیر دیگر آزادیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

اسی لیے دنیا کو جنوبی ایشیا کے بڑے اخبار یعنی بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی سٹار کے ایڈیٹر محفوظ انعام پر منظم حملوں کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے۔

ڈیلی سٹار بنگلہ دیش کا معروف انگریزی اخبار ہے۔

تقریباً 25 سال قبل جب بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوریت بحال ہوئی تھی تو اِس اخبار کا آغاز ہوا تھا اور ہمیشہ سے یہ اپنی صحافتی دیانت داری، لبرل اور ترقی پسند نقطہ نظر کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اسے بنگلہ دیش کا نیویارک ٹائمز کہا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے یہ بہت حیرت والی بات ہے کہ مسٹر انعام پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد نے اُنھیں ’مکمل طور پر غیر اخلاقی‘ اور جھوٹے شخص کے طور پر بیان کرتے ہوئے اُنھیں جیل میں قید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واجد کا کہنا ہے کہ ’میں انعام کے خلاف الزامات کی تفصیلات تحریک میں بیان کروں گا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اِن الزامات کو ایک مخصوص صورت حال میں ترتیب دیا گیا ہے، کیونکہ یہ سمجھنا بالکل مشکل نہیں ہے، ملک میں قائم چند آزاد صحافتی اداروں میں سے ایک کا منھ بند کرنے کے لیے تازہ ترین کوششیں سب کے سامنے ہیں۔‘

آمدنی متاثر

ڈیلی سٹار اور اُس کا ساتھی اشاعتی ادارہ پروتھوم آلو کے مالی معاملات متاثر کرنے کی خفیہ کوشش پہلے ہی جاری ہے۔ پروتھوم آلو ملک میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا بنگالی اخبار ہے۔

بی بی سی کا اندازہ ہے کہ گذشتہ گرمیوں کے بعد سے ملک کی فوجی خفیہ ایجنسی کی جانب سے دونوں اخبارات کو دیے جانے والے اشتہارات محدود کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی گرامین فون، جو ایک نارویجیئن کمپنی ہے، اُس نے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے سامنے اِس بات کا اعتراف بھی کیا تھا۔

ٹیلی نار کے ہیڈ آف کمیونیکیشن نے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ ’دیگر بڑے اداروں کے ساتھ ساتھ اُنھیں بھی حکام کی جانب سے یہ احکامات دیے گئے تھے کہ بنگلہ دیش کے دونوں بڑے اخباروں کو اشتہارات دینا بند کر دیے جائیں۔‘

ڈیلی سٹار اور پروتھوم آلو کے مطابق اُن کی آمدنی ایک تہائی تک کم ہوگئی ہے۔

بنگلہ دیشی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے تبصرہ نگار ڈیوڈ برگمین کا کہنا ہے کہ اِن احکامات کا قانون میں کوئی جواز نہیں ہے۔

’اِس کو صرف تسلط کے ذریعے سے نافذ کیا گیا ہے جو کہ ملک کی سب سے خطرناک خفیہ ایجنسی کی جانب سے ہے۔‘

دھمکیاں

برگمین لکھتے ہیں کہ ’یہاں کوئی ایک اخباری یا ٹی وی ایڈیٹر نہیں ہے، جس کو اِس رکاوٹ کا علم نہ ہو۔ ابھی تک نہ ہی 30 ٹی وی سٹیشنوں میں سے کسی ایک نے، اور نہ ہی دیگر ان گنت اخبارات نے ڈیلی سٹار اور پروتھوم آلو کو کام سے باز رکھنے کے لیے اِن ہتھکنڈوں کے بارے میں خبر دی ہے۔‘

جب میں نے بنگلہ دیش کے وزیر اطلاعات حسن الحق سے بات کی، تو اُنھوں نے انکار کیا ہے کہ اُنھیں ایسے کسی بھی حکم کا علم ہے۔

اُنھوں نے کہا اگر کوئی اخبار یا کمپنی باضابطہ شکایت درج کراتی ہے تو وہ اِس کی تحقیقات کریں گے۔ بنگلہ دیش میں کاروبار پر کسی بھی قسم کی کوئی غیر قانونی پابندی لگائی گئی تو وہ اُس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

بنگلہ دیشی صحافت میں ڈیلی سٹار کو اشتہارات دینے پر پابندی کے حوالے سے زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔

تاہم انعام پر غداری کے الزامات کافی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ انعام نے یہ اقرار کیا تھا کہ اُن سے غلطی ہوئی ہے۔

برے فیصلے پر غداری؟

اِس مہینے کے آغاز میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اُنھوں نے تسلیم کیا تھا کہ سنہ 2007 میں ڈیلی سٹار میں ایک خاتون کی جانب سے مبینہ کرپشن کی خبر چھاپی گئی تھی جو اُس وقت کی فوجی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی غیر مصدقہ اطلاعات پر مبنی تھی۔ یہ خاتون اِس وقت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم ہیں۔

اِنٹرویو کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ یہ برا ادارتی فیصلہ تھا۔ میں بلا شک و شبہ اِس کو قبول کرتا ہو۔

وزیراعظم کے صاحبزادے کا دعویٰ ہے کہ ڈیلی سٹار اور انعام کی جانب سے لکھے گئے کالم ’اُن کی والدہ کو سیاست سے بے دخل کرنے کی کوشش میں فوجی آمریت کے حق میں لکھے گئے تھے۔‘

انعام اس کی بھرپور تردید کرتے رہے ہیں۔

اُنھوں نے فوجی دورِ حکومت کے دوران شائع ہونے والے 203 اداریوں کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، جس میں جمہوریت بحال کرنے کے حوالے سے تحریر کیا گیا تھا۔

شیخ حسینہ کی گرفتاری کے ایک روز بعد وہ اپنے اداریے میں لکھتے ہیں کہ ’ہمارے لیے شیخ حسینہ کی گرفتاری مکمل طور پر سمجھ سے باہر اور قانون کی عمل داری کے بغیر طاقت کا استعمال ہے اور اِس سے تکبر جھلکتا ہے۔‘

عدالتی فیصلے

شیخ حسینہ اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف الزامات کو کبھی بھی عدالت میں ثابت نہیں کیا گیا کیونکہ جب سنہ 2008 میں عوامی لیگ کو اقتدار ملا تو ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے سے اِن مقدمات کو ختم کر دیا گیا۔

اسی طرح کے الزامات حزب اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی پر بھی لگائے گئے تھے۔ بی این پی کے متعدد رہنما اب بھی تکنیکی اعتبار سے ضمانت پر ہیں۔

وزیر اطلاعات حسن الحق نے ڈیلی سٹار کے خلاف کسی بھی مہم کو مسترد کر دیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ انعام کے خلاف شکایت ایک شہری نے درج کرائی ہے نہ کہ حکومت کی جانب سے کوئی قدم اُٹھایا گیا ہے۔ اُنھوں نے مجھے بتایا کہ ’عدالت مقدمے کی قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کے مجرم ہونے کے بارے میں فیصلہ سنائے گی۔‘

برگمین کا کہنا ہے کہ یہ ’آزاد میڈیا کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔‘

قانونی ہراسانی

جب بنلگہ دیشی میڈیا اِس حوالے سے بات کرنے سے ڈر رہا ہے تو یہ باقی دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس پر بات کرے۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (آئی ایف جے) نے انعام کو قانونی طریقے سے ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ اب دیگر حکومتوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

چند ہفتے قبل بنگلہ دیش کے لیے نئی برطانوی ہائی کمشنر الیسن بلیک نے کہا تھا: ’جیسے دولت مشترکہ کے دو ممالک کرتے ہیں، ہماری بنیادی اقدار مشترک ہیں، جس میں پارلیمانی جمہوریت سے وابستگی، تحمل مزاجی، تحفظ اور انسانی حقوق کے عہد کے ساتھ جماعتی نظام شامل ہے۔‘

شاید یہی وقت ہے جب بلیک بنگلہ دیشی حکومت پر عہد کی پاسداری کرنے پر زور دیں۔

اسی بارے میں