کالی پیلی نہیں، ممبئی کی رنگ برنگی ٹیکسیاں

بھارتی شہر ممبئی کی مخصوص نشانیوں میں سے ایک سیاہ پیلے رنگ کی ٹیکسی کو اب باہر سے تو نہیں لیکن اندر سے ہی سہی ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس کے لیے کچھ ڈیزائنر ساتھ مل کر ان ٹیکسیوں کے اندر کے کپڑے کو تبدیل کر کے ڈیزائنر فیبرک سے سجا رہے ہیں۔

ان فیبركس پر مختلف قسم کے ڈیزائن ہیں جن پر سماجی پیغامات اور بالی وڈ کے مشہور مکالمے نظر آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ taxi fabric

اس پروجیکٹ کا نام ’ٹیکسی فیبرک‘ ہے اور اس کا مقصد ٹیکسی ڈیزائنروں کو ایک موقع فراہم کرنا ہے جس سے وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں۔

ممبئی کی ٹیکسیاں شہر کے ٹریفک کا اہم حصہ ہیں اور روزانہ لاکھوں لوگ ان ٹیکسیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والے برطانوی راک بینڈ ’کولڈ پلے‘ کے نئے البم کا نغمہ ’ہِم فار ويك اینڈ‘ کی ویڈیو میں بھی ان ٹیکسیوں کو دکھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ taxi fabric

ممبئی کے رہنے والے سنکیت اولاني نے یہ ’ٹیکسی فیبرک‘متعارف کروایا ہے۔ ڈیزائنر سنکیت نے اپنے چار دوستوں کے ساتھ آہستہ آہستہ کچھ ٹیکسیوں میں یہ ڈیزائنر فیبرک لگانا شروع کیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھارت میں ابھی تک آرٹ کو اپنا صحیح مقام نہیں ملا، ہمیں مالی طور پر بھی بھارت سے کسی نے تعاون نہیں کیا۔‘

سنکیت نے بتایا کہ انہوں نے اپنے منصوبے کو جب ایک امریکی ویب سائٹ پر ظاہر کیا تب ان کی کئی غیر ملکی کمپنیوں سے مالی مدد کی۔

اس مالی مدد سے وہ ممبئی کی 30 ٹیکسیوں میں نیا ڈیزائنر فیبرک لگائیں گے جن میں سے 25 ٹیکسیوں میں وہ اب تک نیا فیبرک لگا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ taxi fabric

ممبئی کی ہی رہنے والی ایک اور ڈیزائنر نمرتا گوسوامی نے بالی ووڈ کے موضوع پر ٹیکسی میں ڈیزائنر فیبرک لگوایا ہے۔

نمرتا کہتی ہیں: ’لوگ بالی وڈ کی فلموں سے رغبت حاصل کرتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ برائی پر اچھائی کی فتح ہوتی ہے اور یہی کوشش میں نے اپنی ڈیزائن میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔‘

ممبئی میں ٹیکسی چلانے والے انکر کھڑے نے اپنی گاڑی میں یہ فیبرک لگوایا ہے اور وہ اسے ایک نئی آرٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ taxi fabric

وہ کہتے ہیں: ’مجھے خود کو یہ ڈیزائن بڑا پسند آیا اور ہمارے مسافر بھی یہ ڈیزائن دیکھ کر چونک جاتے ہیں اور جب بھی بچے اسے دیکھتے ہیں تو تالیاں بجانے لگتے ہیں۔‘

ٹیکسی فیبرک کی ٹیم ڈرائیور سے مل کر انھیں فیبرک لگانے کے لیے مناتی ہے۔

اس کام میں وہ ڈرائیور یا ٹیکسی مالکان سے کسی بھی قسم کی رقم نہیں لیتے اور جتنا وقت ان کی ٹیکسی میں فیبرک لگانے میں لگتا ہے اتنے وقت کا ٹیکسی ڈرائیوروں کو کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ taxi fabric

اب ٹیکسیوں کے ساتھ ساتھ ممبئی کے آٹو رکشہ میں بھی فیبرک لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

آنے والے دنوں میں سنکیت اس کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم حکومت اور کچھ برانڈز کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ اپنے پیغام لوگوں تک ایک نئے طریقے سے پہنچا سکیں۔‘

اسی بارے میں