روہتک میں نسلی فسادات کے بعد انٹرنیٹ بند

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں نسلی فسادات کے بعد پیش نظر حکام نے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

جمعرات کو جٹ برادری کی جانب سے بہتری ملازمت اور تعلیم کے مطالبات کے لیے نکالی گئی ریلی نے پرتشدد صورت حال اختیار کر لی تھی جس میں 15 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں تھیں اور دیگر نسلی گروہوں کے ساتھ تصادم کے بعد ریلوے کا نظام بھی متاثر ہوا تھا۔

جاٹ برادری سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ دیگر نسلی گروہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہیں اور چار سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد ہے۔

روہتک کے سپرنٹینڈنٹ پولیس ششانک آنند کا کہنا ہے یہ اقدامات ضلعے میں ’امن او امان کی صورت حال‘ کو قابو میں کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں امن و امان کے لیے نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

ہریایہ کی ریاستی انتظامیہ نے ہمسایہ قصبوں سونی پت اور جھجر میں بھی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ منوہر لال کٹر نے جمعرات کی شب کی حالات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا تھا۔

فی الحال جاٹ برادری کو اعلیٰ ذات کی حیثیت حاصل ہے تاہم وہ دیگر نچلی ذاتوں کے لیے متعین کردہ حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جاٹ برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نچلی ذاتوں کے لیے مختص کوٹے کی وجہ سے ان کی برادری کو تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں کے حصول میں ناانصافی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں