جے این یو بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے چیلنج کیوں ہے؟

نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونورسٹی (جے این یو) کے سٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کو ملک سے بغاوت اور غداری کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد ملک کی اس باوقار یونیورسٹی کے بارے میں طرح طرح کے سوالات کیے جا رہے ہیں۔

کنہیا کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کچھ ٹویٹ اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جو مبینہ طور پر جعلی اور فرضی ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی جب قائم کی گئی تھی اس وقت وزیر اعظم اندراگاندھی اسے حکومت کے مختلف شعبوں کے لیے اعلیٰ پیشہ ور افسران کی تربیت گاہ کی یونیورسٹی بنانے کی سوچ رہی تھیں لیکن بعد میں اسے ایک تحقیقی ادارے میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ابتدا میں حکومت نے جے این یو شروع کرنے کے لیے چند بہترین دماغ جمع کیے اور اس یونیورسٹی کو ایک میعاری اور سائنسی نظریات کے تعلیمی ادارے کے طور پر ترقی دینے کی پوری ذمہ داری ان ابتدائی پروفیسروں پر چھوڑ دی۔ کچھ ہی عرصے میں یہ بھارت کی ایک باوقار یونیورسٹی بن گئی۔

جے این یو میں ابتدا سے ہی شعوری طور پر روشن خیال اور بائیں بازو کے رحجان کے پروفیسروں کی تقرری کی گئی تھی۔ یہ ملک کی پہلی ایسی یونیورسٹی بنی جو اپنے ہر فیصلے کرنے کی مجاز تھی۔ یہاں کلاسز اور کلاسز سے باہر بحث ومباحثے کی ایک ایسی روایت قائم ہوئی جو ملک کی کسی دوسری یونیورسٹیوں میں ممکن نہیں ہو سکی۔

اس یونیورسٹی کا بجٹ بھی دوسری یونیورسٹیوں سے بہتر تھا۔ یہاں داخلے کا ایسا نظام نافذ کیا گیا کہ اس ادارے میں اگر بڑی تعداد میں ملک کے بڑے شہروں کے متمول طبقے کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں تو ساتھ میں ہزاروں ایسے دور دراز کے دیہی بچے بھی داخلہ حاصل کرتے ہیں جنھیں انتہائی غربت کے سبب پہلی بار تعلیم تک رسائی حا صل ہوئی ہے۔ کنہیا بھی انھی میں سے ایک ہے۔

جے این یو کی شہرت اور ارتقا کے بعد اندرا گاندھی کی یہ تمنا تھی کہ وہ جے این یو کے طلبہ سے خطاب کر سکیں لیکن طلبہ نے انھیں کمیپس میں داخل نہیں ہونے دیا۔ طلبہ ایمرجنسی کے لیے ان سے معافی چاہتے تھے جس کے لیے وہ تیار نہیں تھیں۔ کیمپس میں روایتی طور پر اعتدال پسندوں اور لبرل خیالات کے اساتذہ اور طلبہ کا غلبہ رہا ہے۔ کمیپس میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ فری تھنکرز اور بھارتی طرز کے سوشلسث گروپ سٹوڈنٹ پولیٹیکس کا محور رہے ہیں۔

پچھلے 40 برس سے کانگریس، بی جے پی اور آر ایس ایس نے ان کمیپس میں اپنا اثر بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ پچھلے چند برس میں کمیپس میں بائیں بازو کا ایک ایسا گروپ مضبوط ہوا ہے جس کا قومی سیاست میں تقریباً کوئی کردار نہیں ہے۔ جے این یو ہمیشہ اہم قومی اور بین القوامی سوالوں پر مسلمہ تصورات کو چیلنج کرتی رہی ہے اور کم و بیش ہمیشہ یہ حکومتِ وقت کے خلاف رہی ہے۔ پہلے بھی اس پر ملک دشمن ہونے کے الزامات لگ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tarendra

جے این یو کے باہر عموماً اسے ’بائیں بازو‘ کے غلبے والی یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے لیکن اس یونیورسٹی میں ہر سیاسی اور مذہبی نظریے کو چیلنج کیا جاتا ہے اور ہر پہلو پر سوال کیے جاتے ہیں۔ یہاں کلاسوں میں، سیمینار ہالوں میں، کھانے کی میسوں میں اور ہوسٹل کے کمروں میں، ہر جگہ بحث و مباحثے کی ایک بہترین اور صحت مند روایت قائم ہے۔ یہاں بغیر خوف وخطر کسی بھی موضوع پر عوامی بحث کی جا سکتی ہے۔

جے این یو کسی نظریے کی تابع نہیں ہے۔ یہ روشن خیالی اور سائنسی نظریات اور جستجو کی دانش گاہ ہے۔ یہاں طلبہ صرف تعلیم حاصل کر کے نہیں نکلتے یہاں انھیں انسانی رشتوں، قدروں اور سماجی، سیاسی و اقتصادی پیچیدگیوں سے روشسناس کرایا جاتا ہے تاکہ وہ معاشرے کی حقیقتوں کے پس منظر میں خود اپنی سوچ پیدا کرسکیں۔

ماضی میں بھارت کی ہر بڑی سیاسی جماعت اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں نے جے این یو پر نظریاتی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں ہر بار شکست ہوئی ہے۔

اسی بارے میں