’دولت اسلامیہ‘ افغانستان میں اپنے دشمن بنا رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دنوں ننگرہار سے جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کے اراکین پکڑے گئے تھے
شاید آپ نے افغانستان میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے ظہور کے بارے میں سنا ہوگا۔ اس شدت پسند تنظیم نے ملک کے مشرقی علاقے کے پہاڑوں میں نیا صوبہ، جس کو وہ ’خلافت‘ کہتے ہیں، بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔بی بی سی افغانستان کے نامہ نگار سید عبداللہ نظامی کا کہنا ہے کہ اِس تنظیم نے حکمت عملی کے حوالے سے کچھ سنگین غلطیاں کردی ہیں۔

میرا تعلق افغان صوبے کنڑ سے ہے، یہ اُن صوبوں میں سے ایک ہے جہاں دولت اسلامیہ کافی مضبوط ہے۔ میں مقامی سکول گیا تھا اور میرے کئی دوست جہادی بن چکے ہیں، اور اُن میں سے کئی نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ اِس تحریر کو پڑھ کر بہت سارے لوگ حیرت زدہ اور شاید خوف زدہ بھی ہوجائیں۔ لیکن اِس علاقے میں جہادی تنظیموں میں شامل ہونا عجیب بات نہیں ہے، بلکہ یہ کسی پیشے کو اختیار کرنے کی طرح ہے۔ یہاں روزگار کے مواقع زیادہ نہیں ہیں اور نوجوان افرد دیگر چیزیں کرنے کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جہادی تنظیموں کے پاس پیسے اور ہتھیار دونوں موجود ہیں۔

میں بہت خوش قسمت ہوں۔ میرا خاندان امیر نہیں تھا لیکن میں صحافی کی نوکری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے دولت اسلامیہ کو تشکیل پاتے اور اِن کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

Image caption افغانستان میں کنڑ کے قبائلی علاقہ میں پہلی بار دولت اسلامیہ سامنے آیا

کنڑ وہ علاقہ ہے جہاں سب سے پہلے دولت اسلامیہ کا ظہور ہوا اور یہ افغانوں کے لیے حیرت میں مبتلا کرنے والی بات نہیں ہے۔

اِس علاقے میں بہت سارے قبائلی گروہ ہیں اور کابل میں کسی کی بھی حکومت ہو یہ تمام اُس کو نظر انداز کرتے ہیں۔

ہمیں اپنی جنگجوانہ روایات پر فخر ہے۔ میرے والد خود ایک جہادی تھے، اُنھوں نے افغانستان پر سویت یونین کے قبضے کے خلاف جنگ لڑی اور مجھے اِس پر فخر ہے کہ اُنھوں نے اپنے ملک کے لیے ہتھیار اُٹھائے۔ ایسا کرنے کے لیے مذہب نے اُن کو راغب کیا تھا۔ اُنھیں اِس بات سے نفرت تھی کہ ملحد یا لادین ہمارے ملک پر قابض ہوں۔

ایسے وہ صرف اکیلے نہیں تھے بلکہ افغان حکومت کے کئی رہنما بھی سابق مجاہدین میں سے ہیں۔ لیکن کنڑ کی مذہبی روایات باقی ملک سے کافی مختلف ہیں۔

زیادہ تر افغانی عوام حنفی فقہ پر عمل پیرا ہیں لیکن یہاں پر کئی لوگ بہت کٹر اور سخت گیر اسلامی ہوتے ہیں جس میں لوگوں کو پہلے دور کے مسلمانوں کی طرز زندگی اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے۔

افغانستان میں وہابیت کی بنیاد رکھنے والے شیخ جمیل کا تعلق کنڑ سے تھا۔ اُنھیں مدرسے تعمیر کرنے اور جنگجوؤں کی مدد کے لیے سعودیوں سے خطیر رقم ملتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکمت عملی میں غلطی کی وجہ سے اب داعش کو ہر طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے

ہمارے ہیڈ ماسٹر کا علاقے میں کافی اثر و رسوخ تھا۔ وہ لڑکوں کو جہادی تنظیموں میں شمولیت پر اُکساتے تھے، اُس وقت طالبان کے بجائے حزب اسلامی ہوا کرتی تھی اور یہ ایک مکمل حنفی تحریک تھی۔

جب سنہ 2001 میں غیر ملکی فوجوں نے حملہ کیا تو طالبان کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ میرے ہیڈ ماسٹر طالبان میں شامل ہوگئےاور اب وہ پاکستانی سرحد کے ساتھ، طالبان کے اہم دستے کے کمانڈر ہیں۔

میں نے سنہ 2014 کے آغاز میں دولت اسلامیہ کے حوالے سے سنا تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ ابتدا میں مجھے نہیں لگتا تھا کہ اِس میں کچھ خاص ہے، یہ صرف ایک دوسری عالمی جہادی تنظیم کی طرح ہے۔ لیکن جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ دولت اسلامیہ کافی مختلف ہے۔

دولت اسلامیہ کی بنیاد 60 سے 70 جنگجو پر مشتمل ایک چھوٹے سے گروہ نے رکھی تھی۔ اِن میں سے زیادہ تر سرحد پار پاکستان سے آئے تھے اور یہ بات واضح تھی کہ اِن کو ملک کے باہر سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔

ابتدا سے ہی دولت اسلامیہ کے پاس پیسے اور ہتھیار بہت تھے۔ اور یہ بہت منظم تھے، جیسے کے طالبان کبھی ہوا کرتے تھے۔

اُنھوں نے طالبان یا دیگر جہادیوں کی طرح مقامی افراد پر ’ٹیکس‘ نہیں لگائے۔ اِسی بات نے اِن کو مقبول بنادیا۔

Image caption ہمارے نامہ نگار کے مطابق دولت اسلامیہ اپنی اپیل کھو رہی ہے

سنہ 2014 جولائی میں، میں نے افغانستاں میں ’دولت اسلامیہ‘ کے ایک رہنما سے ملاقات کی تھی۔ ایک روز اچانک اُنھوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ کیا میں اُن کا انٹرویو کرنا پسند کروں گا۔ وہ جانتے تھے کہ میں صحافی ہوں اور یہ واضح تھا کہ وہ مشہور ہونا چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے مجھے بتایا کہ وہ دولت اسلامیہ کے رسالے اور دیگر مواد کو مقامی زبان یعنی پشتو میں چھپوا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی تحریک کنڑ اور اُس کے ساتھ کے دو صوبوں میں مقبول ہورہی ہے۔ اُنھوں نے مجھے لوگوں کی دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی سے بیعت کرتے ہوئے ویڈیو بھی دکھائی۔

میری ملاقات کے کچھ دیر بعد ہی دو بڑے مقامی جہادی گروہوں نے دولت اسلامیہ کے ساتھ اتحاد کیا، اور جب شام میں جنگ تیز ہوگی تو بہت سارے افراد جو القاعدہ کے ساتھ ہیں وہ دولت اسلامیہ کی جانب منتقل ہوجائیں گے۔

یہ واضح ہے کہ اِس تنظیم کی میرے علاقے میں کافی پرعزم منصوبہ بندی ہے۔

گذشتہ سال کے آغاز میں ایک مقامی کمانڈر نے مجھے کہا تھا کہ وہ کنڑ کو دولت اسلامیہ کا دوسرا مضبوط گڑھ بنانا چاہتے ہیں، جیسا کہ شام اور عراق میں ایک پہلے سے موجود ہے۔ یہ پورا علاقہ خلافت کے نئےصوبے ’خراسان‘ کا حصہ ہوگا۔

Image caption کنڑ کے علاقے میں دولت اسلامیہ کا زور رہا ہے

اُنھوں نے کہا کہ اُن کا منصوبہ ہے کہ وہ توجہ حاصل کرنے یا تشہیر سے گریز کرتے ہوئے، خاموشی کے ساتھ مقامی افراد کی حمایت اور طاقت کے حصول کی کوشش کریں گے۔ خطے میں اپنے موقف کی تشہیر کے لیے ریڈیو سٹیشن قائم کیا جاچکا ہے۔

لیکن اِس کے بعد حکمت عملی کے حوالے سے غلطیاں سامنے آنا شروع ہوگئی۔

سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ کمانڈر اپنے ہی جنگجوؤں پر قابو نہ رکھ سکے۔ گذشتہ سال جولائی میں اُن کی مقامی طالبان اور اپنے اعلیٰ سطح کے رہنما کے ساتھ لڑائی ہوگئی۔ اور اُس کے بعد قریبی صوبے کے کمانڈر نے سرکاری فوج پر حملوں کا آغاز کردیا۔

مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ یہ دولت اسلامیہ کے لیے تباہی تھی۔ بجائے اِس کے وہ اپنی جڑیں مضبوط کرتے وہ سامنے آگئے اور اب وہ تمام اطراف سے حملوں کی زد میں ہیں۔

امریکہ نے افغانستان میں دولت اسلامیہ کو اپنا باضابطہ ہدف بنا لیا ہے اور گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اُن کے ٹھکانوں پر خصوصی دستوں کے ذریعے سے آپریشن اور ڈرون حملے کیے جارہے ہیں۔

Image caption افغانستان میں کسی جنگجو گروپ میں شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے

اِس کے ساتھ ساتھ، افغان حکومت، طالبان اور مقامی جنگجو بھی اُن پر حملے کررہے ہیں، ہر کوئی اُن کے خلاف نطر آتا ہے۔

بے گناہ کسانوں پر وحشیانہ تشدد اور اُن کے قتل عام کی وجہ سے وہ مقامی افراد میں اپنی حمایت بھی کھو چکے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے جن جنگجوؤں کو میں جانتا تھا، اب وہ عام سی زندگی گزار رہے ہیں۔

اِن میں سے بہت سارے پہلے طالبان سے تعلق رکھتے تھے لیکن اُن کے لیے واپس جانا کافی مشکل ہے۔

اب دولت اسلامیہ بہت کمزور ہوچکی ہے۔ لیکن میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اِس خطے میں یہ اِن کا آخری وقت ہے۔ اب نظریہ اور جنگجو دونوں یہاں موجود ہیں اور اِن سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

اسی بارے میں