جاٹ کیوں کھاٹ توڑ رہا ہے؟

رنجیت سنگھ، مہاراجہ بھرت پور سورج مل، مہاراجہ پٹیالہ، بھگت سنگھ شہید، چوہدری چرن سنگھ، دیوی لال، دارا سنگھ، دھرمیندر، وریندر سہواگ، انڈین چیف آف آرمی سٹاف جنرل دلبیر سنگھ، نوابزادہ لیاقت علی خان، سر چھوٹو رام، ظہور الٰہی، کھر، قمر زمان کائرہ، بیرسٹر اعتزاز احسن اور ملائکہ شراوت۔ یہ سب تاریخی، معروف یا کامیاب ہندو، سکھ، مسلمان جاٹ ہیں۔

سب کے سب کسان پس منظر سے ہیں اور پاکستانی و بھارتی پنجاب، سندھ، راجستھان، یوپی، مدھیہ پردیش تک پھیلے ہیں۔ طبعاً آزاد منش، جنگجو اور زمین سے جڑے احساسِ برتری سے سرشار ہیں۔ لیکن آج کی زندگی میں آگے بڑھنے کا مقابلہ اتنا گلا کاٹ ہوگیا ہے کہ محض احساسِ برتری کے سہارے نہیں جیتا جا سکتا۔

ہریانہ کے جاٹوں کا غصہ اسی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کہنے کو ہریانہ خوشحال ریاست ہے اور پچیس فیصد جاٹ 75 فیصد زرعی زمین کے مالک ہیں۔ کھیتی باڑی کو آج بھی اتم اور نوکری کو نیچ سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی نوکری اعلیٰ ہے تو بس فوج کی۔ کیونکہ انگریز نے انہیں مارشل ریس کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔

چونکہ کاشتکاری میں تعلیم ثانوی درجہ رکھتی ہے لہٰذا جب تک ساٹھ کی دہائی کے سبز زرعی انقلاب کے سحر کے اسیر ہریانوی جاٹ کا گھر فصل کی آمدنی سے چلتا رہا وہ مست رہا۔ کوئی لمڈا کچھ پڑھ لکھ گیا بھی تو زیادہ سے زیادہ کانسٹیبل، چھوٹا موٹا وکیل، پراپرٹی ڈیلر، ماسٹر جی، کھلاڑی، پہلوان یا فوجی ہو گیا۔ ہریانوی جاٹ نے یہ بھی نہ سوچا کہ غلہ تاجر، کمیشن ایجنٹ، ڈیری فارمر اور رائس ملر بنئے، کھتری اور اروڑے ہیں اور جاٹ بس اکڑو کسان۔ اور اگر ان کے پاس ہے تو بس سیاسی طاقت۔

اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’ہیٹلی جاتوں‘ کے بچے جنہیں خود پرست جاٹ منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتا تھا آہستہ آہستہ انگریزی سیکھنے لگے، ٹکنیکل ایجوکیشن میں جانے لگے۔ جاٹ کو پتہ بھی نہ چلا کہ کب سیاسی و اقتصادی پاور کا مرکز زمینداری کے ہاتھوں سے پھسل کر شہری کارپوریٹ مڈل کلاس کے ہاتھوں میں شفت ہوگیا اور اس کلاس کے چھوکرے چھوکریاں پچاس ہزار، لاکھ دو لاکھ مہینے کی پگھار سے عملی زندگی شروع کر رہے ہیں اور میاں جاٹ کو فی ایکڑ پچاس ہزار روپے سال کے بھی بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔

چنانچہ ہریانہ کا جاٹ کسان جب 20 ہزار روپے ماہانہ کی اوسط آمدنی میں قید ہوگیا کہ جس میں بچوں کو انگریزی سکول تک بھیجنا بھی محال ہے تو اس کی آنکھ کھلی اور اس نے بھاگم بھاگ ترقی کی اس ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کی کہ جس میں دیگر جاتیوں کے لوگ پہلے ہی کھچا کھچ بھرے تھے۔

ایک ہی راستہ بچا تھا کہ جس طرح راجستھان، یو پی، دلی اور مدھیہ پردیش کے جاٹوں نے اپنی روائتی اکڑ کی پگ معیشت کے دیو کے قدموں میں بروقت رکھ کر خود کو پسماندہ ذاتوں کے کوٹے سے جڑوا لیا ویسا ہی کوٹہ ہریانہ کے جاٹوں کو بھی مل جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تمام تعلیمی و ملازمتی کوٹے 20 برس پہلے ہی بھر چکے اور سپریم کورٹ کے حکم کے تحت کسی بھی سرکاری ملازمت میں ریزرویشن کوٹہ 49 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

چنانچہ جاٹوں نے گھیراؤ، جلاؤ، پتھراؤ کا راستہ اختیار کیا اور اب تک ہریانہ کے مختلف شہروں میں 19 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ مگر اس مسئلے کا کوئی فوری حل دکھائی نہیں دیتا۔

گذشتہ اگست میں بھارت کی سب سے ترقی یافتہ ریاست گجرات کے پٹیل کسانوں نے ایک نوجوان ہردیک پٹیل کی قیادت میں ریزرویشن میں حصہ مانگنے کے آنڈولن میں دس پٹیل مروا دیے۔ مہاراشٹر کے نسلی و تاریخی تفاخر کے مارے مراٹھا اور راجھستان کے گجر بھی معاشی پسماندگی میں گھرنے کے سبب ریزرویشن کے ڈبے میں سوار ہونا چاہتے ہیں مگر جو ڈبے کے اندر پہلے سے ہیں وہ کسی قیمت پر دروازہ کھولنا نہیں چاہتے۔ سرکار نے اگر زبردستی دروازہ کھلوانے کی کوشش کی تو اندر والے ٹرین کو توڑ بھی سکتے ہیں۔

سرکاری نوکریاں باقی نہیں بچیں اور قلانچیں بھرتے ہوئے معیشت پر گرفت مضبوط کرنے والے پرائیویٹ سیکٹر کو جس معیار کے سافٹ وئیر انجینرز، مینجمنٹ ایگزیکٹو، سائنسداں، ٹیکنالوجسٹ اور طبی ماہرین درکار ہیں اسے حاصل کرنے میں یہ برادریاں پیچھے رہ گئی ہیں۔ اب سخت مقابلے کی دیوار ہے اور ان کا سر۔ جوں جوں بھارتی معیشت مڈل سے ہائی ٹیک ہوتی چلی جائے گی توں توں آبادی کے پیچھے رہ جانے والے مختلف نیم اعلیٰ طبقات میں متشدد بے چینی بڑھتی چلی جائے گی۔ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ (اس مشہور گانے کا خالق ادتیہ پرتیک سنگھ سسوڈیہ بھی ہریانوی جاٹ ہے)۔

اسی بارے میں