جے این یو کے دو طلبہ نے خود کو پولیس کے حوالے کیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمر خالد نے دہلی ہائی کورٹ میں عدالت کے سامنے خود سپردگي کے لیے عرضی داخل کی تھی

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے دو طالب علموں نے خود کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب پولیس کے سپرد کر دیا ہے۔

جے این یو کے عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ نام کے ان دونوں طالب علموں پر یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کرنے میں تعاون دینے کے سبب ’ملک سے غداری‘ کا الزام لگایا گيا ہے۔

یہ دونوں طالب علم ان بہت سے طلبہ میں شامل ہیں جو پولیس کو مطلوب ہیں۔

اس سے قبل جے این یو کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری پر ملک گیر مظاہرے اور تصادم ہوئے ہیں۔

ان دونوں کے علاوہ کئی دوسرے طلبہ پر رواں ماہ نو فروری کو یونیورسٹی کیمپس میں منعقد ایک پروگرام میں بھارت مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے۔

دراصل نو فروری سنہ 2013 کو افضل گورو کو پھانسی ہوئی تھی جس پر بہت سے سوال اٹھے تھے اور اسی کی برسی کے موقعے پر رواں سال جے این یو میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں بھارت مخالف نعرے سنے گئے تھے۔

افضل گورو کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملے میں شامل ہونے کے لیے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جے این یو کے طلبہ نے حکومت کے رویے کے خلاف کئی بار مظاہرے کیے

عمر خالد نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے خود سپردگی کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اس پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو انھیں پولیس کے سامنے خود سپردگی کے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کے لیے کہا تھا۔

پولیس منگل کو کیمپس میں داخل نہیں ہوئی اور عمر خالد اور انربان بھٹاچاریہ نے یونیورسٹی کیمپس سے نکل کر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ خیال رہے کہ پولیس یونیورسٹی کے حکام کی اجازت کے بغیر کیمپس میں داخل نہیں ہو سکتی ہے۔

پولیس نے اب مطالبہ کیا ہے کہ بقیہ طلبہ آشوتوش کمار، اننت پرکاش ناراین، ریاض الحق اور رام ناگا بھی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کریں۔

ناقدین نے طلبہ پر لگائے گئے الزامات کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن سے تعبیر کیا ہے جبکہ حکومت کے وزرا اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں اور ان کے بقول وہ ’ملک مخالف عناصر کو سزا دے کر رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption دوسری جانب بعض طلبہ تنظیم کی جانب سے جے این یو کے طلبہ کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے ہیں

مظاہروں کے دوران بعض مقامی میڈیا نے عمر خالد کا پاکستان کی تنظیم جیش محمد سے تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں حکومت نے اس سے انکار کیا۔

جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے صدر کی گرفتاری کے بعد باقی ملزمان روپوش تھے لیکن اتوار کی شب عمر خالد سامنے آئے اور احتجاج کرنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میرا نام عمر خالد ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ میں نے سیاست کے دوران کمیپس میں خود کو کبھی بھی مسلمان کے طور پر پیش نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ مسلمانوں کے استحصال کو دلت، قبائلی اور دوسرے پسماندہ طبقے کے استحصال کے طور پر دیکھا۔‘

اسی بارے میں