نیپال میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 23 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہوا بازی کے شعبے کے ڈائریکٹر سنجیو گوتم نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ میاگدی ضلعے میں دانا گاؤں کے پاس ملا ہے

نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ نجی فضائی کمپنی کا ایک مسافر بردار طیارہ جو ملک کے مغربی پہاڑی علاقے میں لاپتہ ہوگیا تھا اس کا ملبہ مل گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار تمام 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تارا ایئر کی یہ پرواز پوکھرا سے جومسوم جارہی تھی۔

اس مسافر بردار طیارے میں 20 مسافر اور تین طیارے کے عملے سوار تھے۔ ان میں کویت کا باشندہ تھا جبکہ ایک چین کا باشندہ تھا۔

نیپال میں شہری ہوا بازی کے شعبے کے ڈائریکٹر سنجیو گوتم نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ میاگدی ضلعے میں دانا گاؤں کے پاس ملا ہے۔

اس سے قبل انھوں نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا کہ طیارے کا پرواز کے دس منٹ بعد کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

طیارے پر سوار باقی افراد کی تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔ مسافروں میں دو بچے بھی شامل تھے۔

نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سنجیو گوتم نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا ہے کہ لاپتہ ہونے والا طیارہ نیا تھا اور موسم اچھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس کے لاپتہ ہونے پر حیرانی ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس مسافر بردار طیارے میں 20 مسافر اور تین طیارے کے عملے سوار تھے

پوکھرا نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے تقریباً دو سو کلو میٹر مغرب میں سیاحوں کا پسندیدہ شہر ہے جبکہ جومسوم اس کے مزید شمال میں واقع ہے اور یہ ہمالیہ میں ٹریکنگ کے لیے ابتدائی مقام تصور کیا جاتا ہے۔

ان دونوں مقام کے درمیان کسی جہاز کے اترنے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔

نیپال میں ہوا بازی کے شعبے کا خراب ریکارڈ رہا ہے۔ سنہ 2013 میں یورپی یونین نے تمام نیپالی طیاروں کی اپنے یہاں پرواز پر پابندی لگا دی تھی۔

سنہ 1949 میں جب نیپال میں پہلی بار طیارہ اترا تھا اس وقت سے اب تک وہاں 70 حادثات ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں