افضل گورو کی پھانسی پر نیا قضیہ

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

بھارت کی کانگریس پارٹی نے اپنے سابق وزیر پی چدمبرم کے افضل گورو کی پھانسی کے حوالے سے بیان سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

کانگریس پارٹی کے دورِ حکومت میں وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کے عہدوں پر برقرار رہنے والے پی چدامبرم نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا: ’کوئی بھی یہ ایماندارانہ رائے رکھ سکتا ہے کہ (افضل گورو) کے مقدمے کا فیصلہ صحیح نہیں ہوا تھا۔‘

البتہ پی چدامبرم کی جماعت نے ان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحث کو دوبارہ چھیڑنا بے کار ہے کیونکہ یہ فیصلہ عدالتی اختتام کو پہنچ چکا ہے۔

افضل گورو کو 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کےجرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔بھارتی پارلیمنٹ پر کشمیری جنگجوؤں کے حملے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

افضل گورو نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی تھی۔

سابق وزیر پی چدامبرم کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تین طلبا کو افضل گورو کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب میں مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے لگانے پر غداری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

اسی بارے میں