اصلاح پسندوں نے تہران کی تمام نشستیں جیت لیں

تصویر کے کاپی رائٹ IRNA
Image caption ایران میں جمعے کو ہونے والے انتخابات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے ووٹ ڈالے

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران میں ہونے والے انتخابات میں صدر روحانی کے اصلاح پسند اتحادیوں کو تہران میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

جمعے کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق اصلاح پسندوں کو دارالحکومت تہران میں تمام 30 نشستوں پر کامیابی حاصل ہو ئی ہے۔

حسن روحانی کے دوبارہ صدر بننے کے امکانات روشن

کنزرویٹو امیدوار غلام علی حدید عادل 31ویں پوزیشن پر ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے تحت 290 ارکان پارلیمان اور مجلسِ رہبری کے لیے علما کے انتخاب کے لیے جمعے کو لاکھوں افراد نے ووٹ ڈالے۔

مجلسِ رہبری کے 88 ارکان ایران کے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای جن کی عمر 76 سال ہو گئی ہے اور وہ بیمار بھی ہیں کے جانشین کا انتخاب بھی کر لیں گے۔

اس سے قبل ابتدائی نتائج کے مطابق صدر حسن روحانی اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کو ایران کے رہبر اعلی کا انتخاب کرنے والی ماہرین کی اسمبلی میں برتری حاصل تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران میں پارلیمانی نتائج انتہائی اہم ہیں کیونکہ دارالحکومت میں قانون بنانے والے عام طور پر ایوان کی سیاسی سمت کا تعین کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد ملک میں یہ پہلے انتخابات ہیں

تاہم داراحکومت سے باہر کے علاقوں میں ایسا لگتا ہے کہ اصلاح پسندوں نے کم کامیابی حاصل کی ہے۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری توانائی پر ہونے والے معاہدے کے بعد یہ ملک کے پہلے انتخابات ہیں۔

سامنے آنے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسن روحانی سنہ 2017 میں دوبارہ ایران کے صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل ملک کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج نے حکومت کو مزید اعتبار اور اثر و رسوخ عطا کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اب مقابلہ ختم ہو گیا ہے۔ اب ایران کی اندرونی صلاحیتوں اور مواقع کے مطابق اقتصادی ترقی میں نیا باب شروع کرنے کا وقت ہے۔ ‘

’لوگوں نے ایک بار پھر اپنی طاقت ظاہر کی ہے اور اپنی منتخب حکومت کو مزید طاقت اور اعتبار دیا ہے۔‘

اصلاح پسند اور اعتدال پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ دے رہے ہیں جس سے روزگار بڑھنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔

لیکن قدامت پسند خیالات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی اندرونی طور پر پیداوار بڑھانے سے ہوگی۔

اسی بارے میں