مکہ میں حرم کے ارد گرد تعمیرات میں اضافہ

سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں موجود خانہ کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قبلے کا درجہ رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے حرم کے ارد گرد کئی عمارتوں کی تعمیر سے یہ سارا علاقہ تیزی سے تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

بیشتر زائرین کا خیال ہے کہ ہوٹلوں اور عمارتوں کی تعمیر سے حاجیوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

کچھ عرصے سے خانہ کعبہ کے اردگرد بڑے ہوٹلوں کی تعیمر کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر عمارتیں مسجد الحرام کے بہت قریب بنائی گئی ہیں۔ ان عمارتوں کے ساتھ ساتھ کچھ بڑے ہوٹل بھی شامل ہیں۔

ایسے ہوٹلوں میں قیام کرنے والے افراد کو ہوٹل سے نکل کر حرم شریف کے اندر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ یہ زائرین ہوٹل کے احاطے میں کھڑے ہوکر نماز میں شامل ہوسکتے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں 15 سالوں سے مقیم ایک پاکستانی تاجر حاجی شہاب خان کا کہنا ہے کہ حرم کے اردگرد اتنی بڑی تعداد میں عمارتیں بن گئی ہیں کہ ان کو دیکھ کرگھٹن کی کفیت محسوس ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان عمارتوں کی وجہ سے دنیا کے کونے کونے سے آنے والے زائرین کے رش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق ’چونکہ ہر سال زائرین کی تعداد بڑھ رہی ہے لہذا یہ عمارتیں اب خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آنے والوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں