’طالبان سے مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے‘

Image caption پیر سید احمد گیلانی افغان امن شوری کے سربراہ ہیں

افغانستان کی امن شوریٰ کے نئے سربراہ پیر سید احمد گیلانی نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات تاریخ کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں ہے۔

بی بی سی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کو تارئخ کے بارے میں علم نہیں ہے لیکن وہ مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ طالبان کے بہت سے اہم ارکان کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اس لیے ان کی کوششیں بار آور ثابت ہو سکتی ہیں۔

پیر گیلانی نے مزید کہا کہ افغانستان امن شوریٰ کی بین الاقوامی طور پر جو مالی معاونت کی جا رہی تھی وہ فی الوقت بند ہے لیکن انھوں نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری اس امداد کو جلد بحال کرے گی۔

گیلانی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ تمام مخالف دھڑوں سے ان کے مذاکرات ہوں جس کے نتیجے میں مسئلہ کا ایک معقول حل نکالا جا سکے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے اس بیان کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا جس میں مارچ کے پہلے ہفتے میں طالبان کی قیادت سے براہ راست مذاکرات کی بات کی گئی تو انھوں کہا کہ اس بارے میں پاکستان حکومت سے ہی پوچھا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرا بیان نہیں تھا اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

گزشتہ ماہ کابل میں چہار فریقی مذاکرات جن میں امریکہ، چین، افغانستان اور پاکستان کے نمائندے شامل تھے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جلد سے جلد براہ راست بات چیت کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔

پاکستان نے طالبان کے دھڑوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی اسلام آباد میں میزبانی کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔

اسی بارے میں