مودی حکومت کےلیے جےاین یو کا سیاسی سبق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کے بہت سے عناصر، آر ایس ایس اور میڈیا کا ایک بڑا حصہ مذہب مائل اس جارحانہ قوم پرستی کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

گذشتہ دنوں سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کےجنازے کی ایک تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی۔ جنازے سے قبل ہی ہزاروں افراد وہاں جمع ہو گئے تھے۔ ممتاز قاردی نے ایک ایسےشخص کا قتل کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے ملک میں امن و قانون اور انصاف کی بالادستی کی بات کی تھی۔

سلمان تاثیر نے کہا تھا کہ ’ملک کےسبھی شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کی بعض شقوں کا سہارا لے کر معاشرے کے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا کسی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔‘

ممتاز قادری کے جنازے میں جس طرح کا ہجوم قادری کے نظریے سے اپنی ہم آہنگی اور حمایت کے اظہار کے لیے جمع ہوا تھا اسی طرح کی ایک بھیڑ نے چند مہینے قبل دلی کےنواح میں گائے ذبح کرنےکی جھوٹی افواہ پھیلا کر محمد اخلاق کے گھر پر یلغار کی تھی اور دلی میں عدالت کے احاطےمیں سینکڑوں وکیلوں کے ایک جھنڈ نے جے این یو کے اسٹودنٹ لیڈر کنہیا کمار کوزد و کوب کیا تھا۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی ان دنوں سیاست کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں مذہبی شدت پسندی اور قوم پرستی داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ معاشرے کو ’ہم اور وہ ‘ میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے بہت سے عناصر، آر ایس ایس اور میڈیا کا ایک بڑا حصہ مذہب مائل اس جارحانہ قوم پرستی کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت سےکیےجانے والے ہر سوال کےجواب میں سرحد پر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قربانی کو یاد دلایا جاتا۔

اسی طرح کےایک ہجوم کی جانب سے حملے کی کوشش پچھلے دنوں جواہر لال نہرو یونیورسٹی یعنی جےاین یو پر کی گئی۔ فرضی ویڈیوز اور جعلی ٹویٹ کے ذریعے جےاین یو کو ملک دشمن سرگرمیوں کا محور بتایا گیا۔ میڈیا نے ایک ایسا ماحول بنایا جیسے جے این یو ایک جزیرہ ہے اور جس پر بھارت کےدشمنوں نے قبضہ کر لیا ہو۔ جےاین یو کےدورازے پر پارلیمنٹ پر حملے میں ہلاک ہونے سکیورٹی اہلکاروں کے رشتےداروں سے مظاہرہ کرایا گیا۔ سابق فوجیوں نے مظاہرہ کیا۔ بجرنگ دل اور شیو سینا کے لوگوں نے مظاہرہ کیا۔

بھارت میں میں آر ایس ایس بی جے پی اوران کی محاذی تنظیمیں یہ سمجھتی ہیں کہ ملک سے محبت صرف ان کو ہے یا وہ لوگ جنہیں وہ قوم پرست ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتی ہیں۔ ان کی نظروں میں باقی تمام لوگ ملک دشمن یا مشتبہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مذہبی جنونیت اور جارحانہ قوم پرستی دونوں ہی اقتدار پر قابض ہونے اور اپنا اقتدار برقرار رکھنے کا سیاسی نظریہ ہے۔ ا س کا استعال عموماً ایسے وقت میں ہوتا ہے جب کسی معاشرے میں سیاسی خلا پیدا ہو جاتا ہے اور مروجہ سیاسی سماجی اور اقتصادی تصورات کمزور پڑ جاتے ہیں یا ناکام ہونے لگتے ہیں۔

بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت واضح طور پر ایک مثبت پروگرام اور ترقی کے ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ لیکن ابھی تک وہ کوئی بہتر متبادل نہ دے سکی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہےکہ اپنی گھٹتی ہوئی ہوئی مقبولیت کے پیش نطر اب وہ مذہبی قوم پرستی کے اپنے پرانے ایجنڈے پر واپس آگئی ہے۔ تاریخ پراگر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہےکہ خواہ وہ مذہبی جنونیت کا نظریہ ہو یا مذہبی قوم پرستی کا، ان کی عمر زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ یہ منفی تصورات ہیں اور ان کی بنیادیں نفرت پر قائم ہوتی ہیں۔

غداری کے الزام مین جیل سے رہا ہونے کے بعد جے این یو کے اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار نے جو تقریرکی ہے اس نےبھارت کے جمہوریت پسندوں اور روشن خیال شہریوں کو ایک نئی طاقت بخشی ہے۔

طالب علم کنہیا کی تقریر بھارت کی سیاسی فضا میں طویل عرصے تک بازگشت کرتی رہے گی۔ بی جےپی اور اس کی نطریاتی تنطیموں کو اب یہ پتہ چلنےلگا ہے کہ ملک جارحانہ قوم پرستی سےنہیں ٹھوس پروگراموں اور منصوبوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔

اسی بارے میں