جمنا کا کنارہ، 35 ہزار ڈانسر، سات ایکڑوں کا سٹیج

بھارت میں ماحولیات کے نگران ادارے نے کہا کہ دہلی میں جمنا کے کنارے متنازع ثقافتی میلہ اسی صورت میں منعقد کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے اگر منتظمیں پانچ کروڑ جرمانہ ادا کرنے پر رضامند ہو جائیں۔

یہ تین روزہ میلہ جو اس جمعہ سے شروع ہو رہا ہے اس کے روح رواں ایک بااثر روحانی پیشوا سری سری روی شنکر ہیں۔

منتظمیں کا کہنا ہے کہ اس تین روزہ میلے میں دنیا بھر سے 35 لاکھ لوگوں کے شریک ہونے کی توقع ہے۔

ماحولیات کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ جمنا کے کنارے اس میلے کو منعقد کرنے سے دریا کی قدرتی حیات کو مستقل نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

انھوں نے نیشنل گرین ٹرائبیونل میں اس میلے کے انعقاد کے خلاف ایک درخواست جمع کروائی ہے۔

Image caption پرناب مکھر جی نے اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی ہے

اس درخواست پر دو دن جاری رہنے والی سماعت میں ٹرائبیونل کے اراکین نے حکومت سے سخت سوالات پوچھے۔ انھوں نے کہا کہ جمنا کے کنارے کس طرح حکومت اتنی بڑی تعمیر کی اجازت دے سکتی ہے۔

اس میلے کو منعقد کرنے کی اجازت دینے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے بدھ کو پارلیمنٹ میں بھی احتجاج کیا۔ حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حکومت کس طرح جمنا کے کنارے یہ میلے منعقد کرنے کی اجازت دے سکتی ہے اور ایک پرائیوٹ میلے کے انتظامات اور تیاریوں کے لیے فوج کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔

Image caption سری سری روی شنکر کی فاونڈیش دنیا بھر میں یوگا مراکز چلاتی ہے

ورلڈ کلچر فیسٹیول کے لیے سجایا جانے والا پنڈال ایک ہزار ایکڑ پر پھیلا ہو گا جس میں 35 ہزار سازندوں اور ڈانسروں کے لیے بنایا جانے والا سٹیج سات ایکڑوں جتنا بڑا ہو گا۔

سری سری روی شنکر کی طرف سے جاری ہونے والے دعوت ناموں میں لکھا گیا ہے کہ اس میلے کی افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور اختتامی تقریب میں صدر پرناب مکھر جی شرکت کریں گے۔

اس میلے کے بارے میں شکایات سامنے آنے کے بعد پرناب مکھر جی نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم اس تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

سری سری روی شنکر موجودہ دور کی ایک ایسی روحانی شخصیت ہیں جنھیں بھارت کے متوسط اور امیر طبقعوں میں بڑی مقبولیت حاصل ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی فاؤنڈیشن یوگا اور روحانی مراکز چلاتی ہے۔