سانولی بھی اتنی ہی پیاری

Image caption مِروشا اور ینوشا نسلی اعتبار سے تمل ہیں

معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر عالمی سطح پر ’سانولا اور پیارا‘ کے عنوان کے تحت ایک مہم جاری ہے جس کا مقصد اس صدیوں پرانی سوچ کے خلاف آواز بلند کرنا ہے کہ صرف سفید رنگت ہی پُرکشش ہوتی ہے۔

برصغیر کے ممالک میں شادی کے اشتہارات میں ہمیشہ ’گوری رنگت‘ والی خواتین کی مانگ سب سے زیادہ ہوتی ہے جبکہ دیگر دنیا میں بھی لاکھوں مرد اور خواتین اپنی جلد کو گورا بنانے کے لیے بلِیچ کر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ حالیہ برسوں میں کچھ ممالک میں ایسی کریمیں فروخت کی جا رہی ہیں جن کے استعمال سے بغلوں اور خواتین کے پوشیدہ بالوں کو بھی گورا بنایا جا سکتا ہے۔

Image caption بھارت میں جلد کی مصنوعات ایک بہت بڑا کاروبار ہیں

یہ مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اپنے اشتہارات میں انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی ہر تدبیر استعمال کر ہی ہیں۔ ان مصنوعات کے خریداروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ اگر ان کی جلد کی رنگت ایک دو درجے سفیدی مائل ہو جائے گی تو انھیں نہ صرف ’بہتر‘ ملازمت مل سکتی ہے بلکہ ان کو بہتر جیون ساتھی بھی مل سکتے ہیں ، اور یوں ان کا معیار زندگی بھی بلند ہو سکتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ کئی برسوں سے ’رنگت پرستی‘ کے خلاف بھی مہم جاری ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ ان کی اصل خوبصورتی ان کی جلد سے زیادہ گہری ہوتی ہے، اور سانولی رنگت بھی خوبصورت ہوتی ہے۔

اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے گذشہ چند ہفتوں سے امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکسس کی تین طالبات نے ایک نئی مہم شروع کر رکھی ہے جس پر اب دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر بحث ہو رہی ہے۔

اس مہم کی بنیاد یونیورسٹی کی اکیس سالہ طالبہ پیکس جونز نے دسمبر میں رکھی تھی۔

Image caption مِروشا کے بقول برصغیر کے ممالک میں رنگت کی بنیاد پر لوگوں میں فرق کرنا بہت عام ہے

ہوا یوں کہ پیکس جونز نے جنوبی ایشیا سے آئی ہوئی اپنی نہایت حسین ہم جماعت لڑکیوں مِروشا یوگاراجہ اور ینوشا یوگاراجہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیں۔ مروشا اور ینوشا سگی بہنیں ہیں۔

بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے پیکس جونز کا کہنا تھا کہ ’ہمار مقصد اس سوچ کو چیلنج کرنا تھا کہ میڈیا پر آپ کسی خاتون کو اس کی رنگت کی بنیاد پرتفریق کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔ ہمارا مقصد لڑکیوں کی زندگی پر رنگت کی چھاپ کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔‘

بھارت اور پاکستان میں انتہائی مقبول کریم ’فیئر اینڈ لولی‘ کے وزن پر ’ان فیئر اینڈ لولی‘ کے عنوان سے شروع کی جانے والی یہ مہم اب سوشل میڈیا پر اسی ہیش ٹیگ کے تحت بہت مقبول ہو چکی ہے۔

Image caption پیکس جونز نے اپنی مہم کے تحت دونوں بہنوں کی کئی تصاویر انٹرنیٹ پر شیئر کی ہیں

اس مہم کے تحت سوشل میڈیا کے گہری اور سانولی رنگت کے مالک صارفین سے کہا گیا کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ تصاویر سوشل میڈیا پر لائیں، جس کے بعد سے فیس بُک اور ٹوئٹر پر بحث مزید زور پکڑ گئی ہے اور اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ ’انسٹا گرام‘ پر اپنی تصاویر شیئر کر چکے ہیں۔

مِروشا یوگاراجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس مہم میں زور شور سے حصہ لیا ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی ممالک سے آئے ہوئے لوگوں میں رنگت کی بنیاد پر لوگوں میں تمیز کرنا بہت عام ہے۔‘

’ہم سب کو بتایا جاتا ہے کہ دھوپ میں باہر نہ جاؤ کیونکہ اس طرح تمہاری رنگت سیاہ ہو جائے گی۔ ایسے جیسے گہری یا سانولی رنگت بری بات ہو۔‘

’یہاں تک کے ہمارے کالج میں بھی جنوبی ایشیا سے آئی ہوئی ایک لڑکی نے مجھے برا بھلا کہا کیونکہ وہ مجھ سے قدرے زیادہ گوری تھی۔ اور پھر ایک اور لڑکی نے میرے اوپر بلِیچ سے بھرا ہوا غبارہ بھی پھیکا۔‘

مِروشا کا کہنا تھا کہ اس قسم کی حرکات کسی کے لیے بھی انتہائی تذلیل کا باعث ہوتی ہیں۔

’کئی دفعہ تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے میری تو کوئی وقعت ہی نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ کیسے رنگت کی بنیاد پر کسی کو انسان ہی سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘

پیکس جونز اپنی دوست کی بات کی تائید کرتی ہیں اور ان کا اپنا کہنا ہے کہ انھیں بھی لوگ ان کے بالوں کے رنگ اور چپٹی ناک کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

’ہمار مقصد ایک بحث کا آغاز کرنا ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ہم اس مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں