’ایران پر میزائل تجربات کرنے پر پابندیاں لگ سکتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران کا دعوی ہے کہ اس کے میزائل مکمل طور پر روایتی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ 2000 کلومیٹر تک ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں

فرانس نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کرنے پر یورپی ممالک کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں مارک ایرالت نے پیرس میں امریکی اور دیگر یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کے بعد کہا کہ ’اگر ضرورت ہوئی‘ تو ایران پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

ایران نے رواں ماہ ہی فوجی مشقوں کے دوران میزائلوں کے کئی تجربے کیے ہیں۔

رواں برس جنوری میں امریکہ نے ایران کے سابقہ تجربات کے ردعمل میں ایران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ پابندیاں اقوامِ متحدہ کی جانب سے جوہری پروگرام کے حوالے سے لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کے اگلے ہی دن لگائی گئی تھیں۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر گذشتہ برس جولائی میں معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں تاہم وہ میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام جاری رکھے گا۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی ایران کے حالیہ میزائل تجربات کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

امریکی حکام نے پیر کو اس معاملے پر سلامتی کونسل میں بحث کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

ایران کا دعوی ہے کہ اس کے میزائل مکمل طور پر روایتی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ 2000 کلومیٹر تک ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر فاصلے کا یہ دعویٰ درست ہے تو یہ میزائل مشرقِ وسطی میں امریکی اڈوں اور اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں