چین کا آداب سکھانے والا پہلا سکول

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس سکول میں کھانے پینے سے لے کر نشت و برخاست کے آداب سکھائے جاتے ہیں

بھیڑ بھاڑ سے دور ایک الگ تھلگ سے صحن میں زندگی کے طور طریقے اور چال ڈھال کے متعلق سبق جاری ہے۔ کچھ طالبات نے سر پر کتابیں رکھی ہوئی ہیں وہ کتاب کو گرنے سے بچانے کی کوشش میں چند قدم چلتی ہیں۔

ایک کی کتاب زمین پر گر گئی لیکن زیادہ تر طالبات اپنی مُسکراتی ہوئی استانی کی تائید کے ساتھ بغیر کتاب گرائے دوسرے سرے تک جانے میں کامیاب ہوگئیں۔

لیکن اس کلاس کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ یہ یورپ میں نہیں ہے جو دنیا کے بہترین آداب کی تربیت دینے سکولوں کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اس کے بجائے یہ سب بیجنگ میں ہو رہا ہے۔

انسٹیٹیوٹ سریتا آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اس ادارے کا دعویٰ ہے کہ وہ چین کا آداب سکھانے والا پہلا سکول ہے۔

یہ سارا جین ہُو نامی خاتون کے ذہن کی اختراع ہے جو ہانگ کانگ کی رہنے والی ہیں اور بورڈنگ سکول اور یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے امریکہ گئی تھیں۔ انویسٹمنٹ بینکنگ اور چین کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے کے بعد انھوں نے سوئٹزرلینڈ کے ایک سکول میں آداب کی تعلیم حاصل کی۔

دورانِ تعلیم انھوں نے جو کچھ سیکھا اُس سے متاثر ہوکر چین واپس آنے کے بعد انھوں نے اپنا سکول قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

وہ کہتی ہیں ’آدابِ معاشرت چینی یا فرانسیسی نہیں ہونے چاہییں، نہ ہی یہ امیر یا غریب کے لیے ہونے چاہییں۔ یہ تمام لوگوں کے لیے ہونے چاہییں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’آداب سیکھنے کی لگن دنیا بھر میں یکساں ہے۔ یہ دوسرے لوگوں کے احترام اور اطمینان کے لیے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اردگرد موجود دیگر لوگوں کو کس طرح سے آرام و سکون پہنچایا جائے۔

مناسب برتاؤ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سارا کا کہنا ہے کہ وہ اس سکول کو مزید وسعت دینا چاہتی ہیں

یہ سکول یورپی سکولوں کے برعکس بڑی عمر کے لوگوں پر مرکوز ہے۔ سکول میں دو اہم کورس ہیں، ایک بالکل نئی سیکھنے والی خواتین کے لیے ہے اور دوسرا شادی شدہ خواتین کے لیے ہے کہ آدابِ میزبانی کس طرح سے نبھائے جائیں۔

سکول میں سکھائے جانے والے اہم مضامین میں سے ایک رکھ رکھاؤ اور طور طریقہ ہے۔

اس ادارے کی صدر ریبیکا لی نے خود بھی آداب سکھانے والے ایک سوئس سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ آپ کی شخصیت اور اس احساس سے متعلق ہے جو آپ دوسروں کو اپنے برتاؤ سے دلاتے ہیں۔ آپ کو لوگوں کو محسوس کرانا چاہیے کہ آپ پُراعتماد ہیں، ایک ایسی شخصیت ہیں جس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’کیسے کھڑے ہوں، کیسے بیٹھیں، کیسے چلیں، کیسے کمرے میں داخل ہوں، کیسے کسی سے ہاتھ ملائیں، یہ تمام چیزیں اس بات پر اثرانداز ہوتی ہیں کہ آپ کو کیسا سمجھا جائے اور آپ کے اردگرد موجود لوگ آپ کے متعلق کیسا محسوس کریں۔ مس لی کے مطابق ’اس لیے آپ کو مناسب طور طریقے سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

دوسرے اسباق میں نارنگی کھانے کے طریقے کے (جس میں چھری اور کانٹے کا استعمال شامل ہے)، میز کی سجاوٹ اور رات کے کھانے کی پارٹی کے لیے نشستی انتظامات سمیت دیگر اسباق شامل ہیں۔

سکول میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ مرد کبھی کبھار ہی ان کلاسوں کا حصہ ہوتے ہیں جو زیادہ تر بالغ طالب علموں کے لیے ہوتی ہیں جن میں انھیں ڈیٹنگ اور ذاتی تعلقات کے نظم و نسق کے متعلق طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔

مس ہُو کا خیال ہے ان کا سکول جس طرح کی تعلیم دے رہا ہے اس کی چین میں جگہ بنتی ہے اور اس کی وجہ چینی معاشرے میں تیزی سے آتی ہوئی تبدیلیاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین میں ہر شعبے میں خواتین آگے آ رہی ہیں

اُن کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے بطور خاص اس میں ڈھلنا مشکل ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’پچھلی صدی میں جدید چین کے بانی ماؤ زے تنگ نے کہا تھا کہ آدھی ذمہ داری خواتین نے سنبھال رکھی ہے۔‘ انھوں نے خواتین کو کام کرنے والے لوگوں میں شامل کرکے آزادی دلائی اور اب کریئر کی سطح پر بھی آپ خواتین کو آگے بڑھتے دیکھ رہے ہیں۔

’لیکن چینی فلسفی کنفیوشس کے بھی دو ہزار سال پرانے اقوال ہیں، جو کہتے ہیں کہ عورت کو گھر کا پاکیزہ محافظ ہونا چاہیے اور اُس کا مقام اس کا گھر اور بچوں کی پرورش کرنا ہے۔‘

ہو کا یہ بھی خیال ہے کہ گلوبلائزیشن کے بالخصوص امرا پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اُن کے مطابق ’چین کا اعلیٰ طبقہ اپنے بچوں کو بورڈنگ سکول بھیج رہا ہے، وہ بیرون ممالک میں جائیدادیں خرید رہے ہیں، بیرونِ ملک ہجرت کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’وہ بہت تیزی سے سیکھ رہے ہیں اور وہ کاسموپولیٹن بنتے جا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آدابِ محفل کی تعلیم آج پہلے سے کہیں زیادہ حسب حال ہے۔‘

ایک قسم کی سرمایہ کاری

اُن کے طالب علم ان سے متفق ہیں۔ کینڈس لی کا ذاتی کاروبار ہے اور وہ عیش وعشرت سے متعلق بازار پر تحقیق کرتی ہیں۔ وہ اکثر بین الاقوامی سطح پر سفر کرتی رہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس ادارے کی کلاسوں میں شرکت کرنے کے بعد سے وہ غیر ملکیوں سے معاملات میں زیادہ پُراعتماد ہوگئی ہیں۔

اس سکول میں تعلیم حاصل کرنا سستا نہیں ہے۔ دس روزہ نئے سیکھنے والوں کے کورس کے لیے 12,200 ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ rebecca
Image caption انسٹی ٹیوٹ کی صدر ریبیکا لی کا کہنا ہے کہ مناسب اطوار کی اہمیت مسلم ہے

لیکن ایک دوسری طالبہ چلیسیا چِن کہتی ہیں ’آپ کتنے پیسے ادا کر رہے ہیں یہ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اہمیت یہ رکھتا ہے کہ آپ اس کورس سے کیا حاصل کر رہے ہیں۔‘

مس چِن کہتی ہیں کہ وہ سکول میں اپنی حاضریوں کو ’اپنے خاندان اور اپنے اردگرد رہنے والے تمام لوگوں کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری خیال کرتی ہیں۔‘ وہ اس بات کی بھی اُمید رکھتی ہیں کہ اگر مستقبل میں اُن کے بچے ہوئے تو جو کچھ وہ سیکھ رہیں اُنھیں سکھانے کے قابل ہوں گی۔

ساریتا انسٹیٹیوٹ اب چین کی مارکیٹ میں آداب سکھانے کے حوالے سے پہلا ادارہ نہیں ہے اور اسے روز افزوں مقابلے کا سامنا ہے۔ مس لی اپنے کاروباری اقدام کا مستقبل کیسا دیکھتی ہیں؟

وہ کہتی ہیں ’ایک طرح سے یہ ایک بیوقوفانہ چھوٹا سا کاروبار ہے۔ ہم بہت زیادہ پیسے لیتے ہیں لیکن تعداد بہت کم ہے، ہماری کلاسیں بہت چھوٹی ہیں اور ہمارے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن میں ہارورڈ بزنس سکول جا چکی ہوں اور میں ہمیشہ سوچتی رہی ہوں کہ میں کس طرح اس کو بڑے پیمانے پر کھڑا کر سکتی ہوں۔‘

مس ہو کا کہنا ہے کہ امریکی ادیبہ، ٹی وی میزبان اور کاروباری شخصیت مارتھا سٹیورٹ اُن کے لیے مثالی اور قابل تقلید ہیں۔ وہ ’مضافاتی خاتونِ خانہ کی راہنما ہیں‘ کہ کیسے کھانا پکانا ہے اور کیسے آدابِ میزبانی نبھانے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں یہی سب آج کے جدید دور کی چینی خواتین کو فراہم کرنا چاہتی ہوں۔

’میں اُنھیں بہترین ماں اور بہترین بیوی بننے میں مدد کرنا چاہتی ہوں جو وہ بن سکتی ہیں، گھر کوایک ایسی جگہ بنانے میں مدد کرنا چاہتی ہوں جہاں وہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو مدعو کر سکیں اور آج کے اس جدید دور میں زندگی کیسے گزاری جائے یہ سب کچھ سکھانے میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں