انڈیا کے جان لیوا جشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صرف فروری کے مہینے میں ریاست اُترپردیش ہی میں شادی کی تقاریب کے دوران ہونے والی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں

شادی کا جشن پرمسرت کی تقریب ہونا چاہیے، تاہم شمالی بھارت میں ہوائی فائرنگ کر کے جشن منانے کی حیرت انگیز اور سخت روایت کے باعث کئی تقریبات ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے آخر میں بھارت کی شمالی ریاست اُتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں رائے پور بُھود ہی کی مثال لیجیے، جب شادی کی تقریب کو یادگار بنانے پر مامور راجو نامی فوٹوگرافر لڑکے والوں کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شادی کی تقریب کے آغاز سے قبل دولھے کے خاندان کے افراد نے اسلحہ نکالا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

راجو کو ان کے علاقے کے لوگ پنٹو کے نام سے جانتے تھے۔ ان کے پیٹ میں گولی لگی اور وہ شدید زخموں کے باعث ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ ہوائی فائرنگ کے دوران 17 سالہ میناکشی بھی زخمی ہو گئیں۔

جشن کے طور پر فائرنگ کرنے کا مقصد نقصان پہنچانا یا زخمی کرنا نہیں ہوتا تاہم اس کے باوجود راجو اور میناکشی اس ہفتے فائرنگ سے زخمی ہونے والے اکیلے متاثرین نہیں تھے۔

بھارت کے ایک اور شمالی گاؤں میں دولھے کے والد کی فائرنگ سے ایک 12 سالہ بچہ زخمی ہو گیا، جبکہ ایک تیسرے گاؤں میں شادی کی تقریب کا نظارہ کرنے والی ایک خاتون گولی لگنے سے زخمی ہو گئیں۔

گذشتہ ہفتے ہی کے اوائل میں بھارت کے دارالحکومت دہلی کے نواح میں علی پور نامی علاقے میں شادی کی تقریب کے دوران وکاس کمار نامی مہمان نے شاٹ گن اور پستول نکال کے فائرنگ شروع کر دی۔

انھوں نے دو فائر ہوا میں اور تیسرا زمین کے رخ پہ کیا۔ دولھے کے دو دوست اور شادی میں بینڈ بجانے والے گروہ کے تین افراد کی ٹانگوں اور پاؤں میں گولیاں لگیں اور پانچوں کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔

صرف فروری کے مہینے میں ریاست اُترپردیش ہی میں شادی کی تقاریب کے دوران ہونے والی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک واقعے میں مہمان کی ہوائی فائرنگ سے دولھا خود بھی مارا گیا۔ امیت رستوگی گھوڑے پہ سوار ہوکے دلھن کے گھر بارات لے کر جا رہے تھے کہ ان کے سر میں گولی آ لگی۔

قدرتی بات ہے کہ بھارتی حکام جشن کے طور پر کی جانے والی فائرنگ کا خاتمہ کرنے کے خواہاں ہیں۔

دوست کی شادی میں رائفل سے فائرنگ کے دوران دولھا کے چچا کو ہلاک کرنے والے شخص کو 25 ماہ جیل کی سزا سنانے والے دہلی کے جج منوج نے کہا: ’بارات کے موقعے پر بندوقوں اور پستول سے فائرنگ کرنا ایک طرح کا فیشن بن گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت کے لیے مناسب وقت ہے کہ وہ اسلحے کے لائسنس کے اجرا کا طریقہ کار سخت کریں اور ایسا میکنزم ترتیب دیں جس کے تحت لائسنس کے غلط استعمال کا تدارک کیا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہوائی فائرنگ کی واپس زمین کی سمت آنے والی گولیوں کی رفتار 90 اور 180 میٹر فی سیکنڈ کے درمیان ہوتی ہے جو کھوپڑی میں جان لیوا زخم پیدا کرنے کے لیے کافی ہے

اُدھر اُتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ تقریبات کے موقعے پر کی جانے والی فائرنگ کے ہر واقعے کی تفتیش کی جائے خواہ پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہو یا نہیں۔

جسٹس ایس کے سکسینہ نے متنبہ کیا کہ ’اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا ضروری ہے۔‘

چند خاندانوں کی جانب سے شادی کی تقاریب میں اسلحے کا استعمال نہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ مہراج دھواج سنگھ چندل کی جانب سے تین ہزار مہمانوں کو بھیجے گئے دعوت نامے میں تحریر ہے ’گزارش: برائے مہربانی ہوائی فائرنگ اور الکوحل کے استعمال سے اجتناب برتیں۔‘

بھارتی روزنامے دی ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کہنا تھا کہ ’حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ تقریبات کے موقعے پر کی جانے والی فائرنگ کے باعث معصوم جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ خوشی کا موقعے سوگ کی تقریب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔‘

تقریبات کے موقعے پر فائرنگ مردانگی کا اظہار کرنے، اپنی حیثیت جتانے اور آتش بازی کے متبادل کے طور پر کی جاتی ہے۔ یہ روایت محض شمالی بھارت تک محدود نہیں ہے۔ افغانستان، پاکستان، مشرق وسطیٰ کے چند علاقوں، بلقانی ریاستوں اور دیگر علاقوں میں بھی ایسی ہی روایات پائی جاتی ہیں۔

عمومی طور پر بندوقوں کا رخ ہوا میں کر کے فائرنگ اس غلط فہمی کی بنا پر کی جاتی ہے کہ اس صورت میں کسی کے زخی ہونے کا احتمال نہیں رہتا۔ امریکہ کے شہر لاس اینجلس کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق درحقیقت ہوا سے واپس آ کر گرنے والی گولیاں براہ راست فائرنگ سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹروں نے پتہ لگایا کہ سنہ 1985 سے 1992 کے دوران 118 افراد میں ہوا سے واپس گر کے لگنے والی گولیوں کے باعث ہونے والی شرح اموات ایک تہائی تھی۔ جبکہ براہ راست فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد میں شرح اموات دو فیصد سے چھ فیصد کے درمیان تھی۔

براہ راست فائرنگ کے مقابلے میں اگرچہ اوپر سے آنے والی گولیوں کی رفتار سست ہوتی ہے تاہم ہوا سے واپس گرنے والی گولیوں کے کسی کے سر پر لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہوائی فائرنگ کی واپس زمین کی سمت آنے والی گولیوں کی رفتار 90 اور 180 میٹر فی سیکنڈ کے درمیان ہوتی ہے جو کھوپڑی میں جان لیوا زخم پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

سنہ 2013 میں امریکہ کے بیماریوں کے تدارک اور روک تھام کے ادارے (یو ایس سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن) نے پورٹوریکو میں 2003-04 کے نئے سال کی تقریبات کے دوران درپیش خطرات کی تفتیش کی تھی۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق دو روز کے دوران ہوائی فائرنگ کے بعد زمین پر واپس آنے والی گولیوں سے 19 افراد زخمی جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

بلقانی ریاست مقدونیہ نے سنہ 2005 میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مہم چلائی تھی جس کا نعرہ تھا کہ ’بندوق کی گولیاں تہنیتی کارڈ نہیں ہوتیں۔ جشن اسلحے کے بغیر منائیں۔‘

بھارتی حکام کی جانب سے بھی ایسی ہی کسی مہم کا آغاز کرنا عقل مندانہ قدم ہو گا۔

اسی بارے میں