پاکستانی جے آئی ٹی27 مارچ کو بھارت پہنچے گی: سشما سوراج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملاقات کا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہے

وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے متعلق مشیر سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان نیپال کے شہر پوکھرا میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی اور پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے پاکستانی ٹیم 27 مارچ کو بھارت جائے گی۔

’الزام تراشی افسوسناک ہے‘

ملاقات کے بعد بھارتی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سرتاج عزیز نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعے کے باعث پاک بھارت رابطوں میں التوا پیدا ہوا۔

تاہم انھوں نے پاکستانی جے آئی ٹیم کے طے شدہ دورہ بھارت پر بات کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ ’اس بار جس طریقے سے پٹھان کوٹ واقعے کو دیکھا گیا ہے، جس طرح سے تعاون ہوا ہے اور اب جے آئی ٹی وہاں جا رہی ہے میرا خیال ہے کہ اس کے اچھے نتائج نکلیں گے۔‘

سشما سوراج نے بتایا کہ پاکستان کی جے آئی ٹیم 27 مارچ کی رات بھارت پہنچے گی اور 28 مارچ سے پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے کام شروع کرے گی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی وزیرِ خارجہ سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی اور اس نئی پیش رفت کے حوالے سے امید ہے کہ اچھے نتائج مرتب ہوں گے۔

سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی کہ جو چند ایشوز رہ گئے ہیں ان پر کام کیا جائے گا۔

’نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی تعریف کی کہ ملاقات میں اچھے ماحول میں بات ہوئی اور تمام ایشوز پر سمجھوتہ اور معاہدہ ہوگیا۔‘

سرتاج عزیز نے اس توقع کا اظہار کیا کہ واشنگٹن میں جوہری سلامتی کے متعلق ہونے والے اجلاس کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ نے پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے19 ویں سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیراعظم کے نام دعوت نامہ بھی بھارتی وزیرخارجہ کو دیا۔

یہ اجلاس نو اور دس نومبر کو اسلام آباد میں ہو گا۔

اس سے قبل پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ ملاقات کا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات کا عمل کئی برسوں سے معطل ہے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کا مقصد اس مہینے کے آخر میں واشنگٹن میں جوہری سلامتی کے متعلق ہونے والے اجلاس کے دوران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے امکانات پر بات چیت کرنا نہیں ہے۔

سرتاج عزیز نے بھارتی وزیرِ خارجہ کو وزیراعظم نریندر مودی کے لیے پاکستانی ہم منصب کی جانب سے سارک سربراہ کانفرنس کا دعوت نامہ بھی دیا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفینگ میں پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان یہ وضاحت کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور وہ اس ضمن میں کوئی تمیز نہیں کرتا۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے برعکس دہشت گردی کا بڑا شکار ہے اور پاکستان کے تمام ادارے اور سوسائٹی متحد ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے گذشتہ روز پشاور میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان افغانستان میں موجود پناہ گاہوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کر رہا ہے؟ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک سکیورٹی معاملات پر پہلے سے موجود میکنزم پر کاربند ہیں جو باہمی تعاون، مشاورت اور اتحاد سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں