اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے: مودی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اپنے نصف گھنٹے کے خطاب میں اسلام، صوفی روایات اور اسلامی تہذيب و ثقافت کی بات کی اور کہا کہ بھارت میں اسلام کی جڑیں کافی مضبوط رہی ہیں

بھارت کے دارالحکومت دلی میں تقریباً 20 مختلف ممالک سے آنے والے صوفی علما پر مشتمل ایک تین روزہ کانفرنس جاری ہے جس سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی خطاب کیا۔

جمعرات کو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے اسلام کو امن و شانتی کا مذہب بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’اسلام کا مطلب ہی امن و شانتی ہے اور اس کا دہشت گردی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا پیغام مکاتب فکر اور فرقوں کی حدود سے کہیں بڑا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب ہم اللہ کے 99 ناموں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس میں سے کوئی بھی نام تشدد یا طاقت کی غمازی نہیں کرتا۔ پہلے کے دو نام تو ہمدری اور رحم کے لیے ہیں۔ اللہ رحمن اور رحیم ہے۔‘

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے نصف گھنٹے کے خطاب میں اسلام، صوفی روایات اور اسلامی تہذيب و ثقافت کی بات کی اور کہا کہ بھارت میں اسلام کی جڑیں کافی مضبوط رہی ہیں۔

17 سے 20 مارچ کے درمیان چلنے والی اس کانفرنس کا اہتمام بریلوی مکتب فکر کے اداروں نے کیا ہے لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ اسے مرکزی حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

حکومت کے ہی ایک بہت ہی معروف اور مہنگے ایوان’وگیان بھون‘ میں اسے کیا جارہا ہے جس میں پاکستان، مصر اور شام جیسے کئی مسلم ممالک کے صوفی علما شرکت کر رہے ہیں۔

بھارت میں مختلف مکاتب فکر کے بہت سے اسلامک اسکالر اور تنظیمیں ہیں اور حالیہ دنوں میں دیوبندی اور اہل حدیث جیسی تنظیموں نے دہشت گردی کے خلاف بڑی کانفرنسز اور پروگرام بھی کیے ہیں۔

لیکن اس کانفرنس میں صرف صوفی علما کو ہی دعوت دی گئی اسی لیے بہت سے مبصرین نے اسے اسلام اور مسلمانوں کی فلاح سے زیادہ سیاسی شعبدہ بازی قرار دیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شبیہ اور ماضی میں ان کے بعض متنازع بیانات بھی کچھ اس طرح کے رہے ہیں کہ انہیں ایک سخت گیر ہندو کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مسلمانوں کے مفادات کی پرواہ کم ہی کرتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صوفی علما نے بھی اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس کانفرنس کا اہتمام بریلوی مکتب فکر کے اداروں نے کیا ہے لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ اسے مرکزی حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہے

گذشتہ ماہ اس کانفرنس کا جب اعلان کیا گيا تھا تو کئی مسلم رہنماؤں نے اس پر یہ کہہ کر شدید نکتہ چینی کی تھی کہ بی جے پی کی حکومت مسلمانوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے تقسیم کرنا چاتی ہے۔

بھارتی مسلم کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے 11 فروری کو اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں فرقہ وارانہ جنگ کی جانب دھکیلنے کی سازش کے خلاف بھارتی مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔

مسلم تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ جن لوگوں نے ماضی میں سیاسی فائدے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑایا ہے، اب وہ مسلمانوں کو آپس میں ہی لڑانے کی سازش کر رہے ہیں۔

رہنماؤں نے الزام لگایا تھا کہ حکومت ہند اسی مقصد کے لیے بڑی فیاضی سے اس کے لیے فنڈ مہیا کر رہی ہے۔ مسلم رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت کی یہ پالیسی نہ تو ملک کے لیے فائدے مند ہے اور نہ ہی اس سے کسی کمیونٹی کو مدد ملنے والی ہے۔

اسی بارے میں