مودی حکومت پر ریاستی حکومتوں کو ختم کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے بحران کا ذمہ مرکزی حکومت پر ڈالا ہے

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران پر حکمراں جماعت کانگریس اور بی جے پی کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔

کانگریس نے بی جے پی پر اسمبلی کے اراکین کی خرید و فروخت کا الزام لگاتے ہوئے اسے جمہوریت اور آئین پر حملہ بتایا ہے جبکہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس سے سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

اتراکھنڈ میں 70 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں کانگریس کے 36 ممبران اسمبلی ہیں، بی جے پی کے 28، بی ایس پی کے دو اور اتراکھنڈ کرانتی دل کے ایک اور تین آزاد امیدوار ہیں۔

اتراکھنڈ میں بجٹ سیشن کے دوران جمعے کو کانگریس کے نو اراکین اسمبلی بی جے پی کے خیمے میں بیٹھ گئے تھے تاہم اسمبلی سپیکر نے بل کو آواز کی بنیاد پر منظور کرلیا تھا۔

کانگریس نے پارٹی میں انتشار کے لیے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کے ذریعے الزام لگایا ہے کہ ’بہار میں شکست کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ منتخب حکومتوں کو خرید و فروخت کے ذریعے گرانا بی جے پی کا نیا ماڈل بن گیا ہے۔‘

راہل نے ٹویٹ کیا کہ ’یہ ہماری جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے، پہلے اروناچل اور اب اتراکھنڈ، یہ مودی جی کی بی جے پی کا اصل چہرہ ہے۔‘

جبکہ بی جے پی کی دو روزہ قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ارون جیٹلی نے کہا، ’اتراکھنڈ میں کانگریس میں گہرے اختلافات ہیں اور اس کا الزام بی جے پی پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SHIV JOSHI
Image caption ہریش راوت نے اس بحران کو انکاؤنٹر سے تعبیر کیا ہے

جیٹلی نے کہا، ’اتراکھنڈ میں سیاسی بحران ہے۔ زیادہ تر ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ انھوں نے مالی بل کے خلاف ووٹ دیا ہے جبکہ سپیکر نے کہا کہ بل پاس ہو گیا ہے۔ ملک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک بل کو اس طرح پاس کیا گیا ہے۔‘

دریں اثنا، مقامی صحافی شیو پرساد جوشی نے بتایا ہے کہ اتراکھنڈ کے اسمبلی سپیکر گووند سنگھ گنجيال نے کانگریس سے بغاوت کرنے والے نو راکین اسمبلی کو ’شوکاز نوٹس‘ جاری کیا ہے۔

یہ نوٹس دہرہ دون میں واقع ان کی رہائش گاہوں کو باہر چسپاں کر دی گئ ہے۔ نوٹس میں اراکین اسمبلی سے 26 مارچ بھارتی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی اعلی قیادت پر تنقید کی ہے اور الزام لگایا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی جنگی پیمانے پر تیاری کی جا رہی ہے۔ انھوں نے اسے ’انکاؤنٹر‘ قرار دیا ہے۔

راوت نے کہا، ’پوری طرح سے مرکزی حکومت کے بل بوتے پر ریاستی حکومتوں کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے، ایک ایک کر کے چن چن کر مخالف پارٹیوں کی حکومتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کو راستے سے ہٹانے کا کام ہو رہا ہے۔ یہ ایک قسم کا انکاؤنٹر ہے۔ پہلے ایک ’ہورس‘ کی ٹانگ توڑا اور اب ’ہورس ٹریڈنگ‘سے اتراکھنڈ کی ٹانگ توڑنا چاہتےہیں۔‘

اسی بارے میں