کنہیا کمار کے حیدرآباد یونیورسٹی جانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کنہیا کمار کو یونیورسٹی میں داخل نہیں ہونے دیا گيا

بھارت میں کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) کے رہنما سیتا رام یچوری نے حیدرآباد یونیورسٹی میں طلبہ کے خلاف پولیس ایکشن کی مذمت کی ہے اور وائس چانسلر کے خلاف کارروائي کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار جو حال میں ’غداری‘ کے الزام میں سرخیوں میں ہیں انھیں حیدرآباد یونیورسٹی میں داخل ہونے سے باز رکھا گيا ہے۔

خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق سیتا رام یچوری نے بدھ کو تیلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ کو ایک خط میں طلبہ پر ہونے والے ’بہیمانہ حملے‘ پر ’غم و غصے‘ کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’جس طرح سے طالبات پر مرد پولیس والوں نے حملہ کیا اور ان کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا وہ قابل مذمت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption حیدرآباد میں طلبہ کا احتجاج کئي ماہ سے جاری ہے جس کا اثر دہلی میں بھی محسوس کیا گيا ہے

انھوں نے لکھا کہ ’گرفتار کیے جانے والے طلبہ کو فورا رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام الزامات کو ختم کیا جائے اور تلنگانہ پولیس کو وائس چانسلر کے خلاف مقدمے پر فورا عمل کرنا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک طالب علم روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد طلبہ وہاں احتجاج کر رہے ہیں اور پولیس نے گذشتہ روز منگل کو یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کے لیے 30 طلبہ اور دو اساتذہ کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا چارج لگایا ہے۔

دوسری جانب بدھ کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں داخل نہیں ہونے دیا گيا۔

پولیس فورس سے گھرے کنہیا کمار يونیورسٹي گیٹ کے باہر صرف طالب علموں کے ایک چھوٹےسے گروپ سے ہی خطاب کر پائے۔

Image caption سیتارام یچوری ایمرجنسی کے زمانے میں جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے صدر رہ چکے ہیں

یونیورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیے جانے پر کنہیا نے کہا: ’ایک طالب علم کو یونیورسٹی میں جانے کی اجازت نہیں دینا قابل مذمت ہے۔ ہماری لڑائی ملک، جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے ہے. یونیورسٹی پولیس کی مدد سے ہمیں ضرور روک سکتی ہے لیکن وہ ہماری جدوجہد کو نہیں کچل سکتی ہے۔ ہم لوگ روہت ویمولا، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اور بھگت سنگھ کے خوابوں کو ضرور پورا کریں گے۔‘

اس سے پہلے حیدرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اپا راؤ پود‏ائل نے بی بی سی کو بتایا تھا: ’ہم صرف کنہیا کمار کی ہی بات نہیں کر رہے ہیں۔

ایگزیکٹو کونسل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ یونیورسٹی میں حالات کشیدہ ہیں، لہٰذا کسی بھی بیرونی شخص کو کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

پروفیسر اپا راؤ نے کہا، ’اگر کیمپس میں ہمارے طلبہ جمع ہو کر میٹنگ کرنا چاہتے ہیں، تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چونکہ یونیورسٹی کے اندر ہنگامہ خیز حالات ہیں اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بیرونی شخص اندر داخل ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روہت ویمولا نے جنوری میں خودکشی کی تھی

وائس چانسلر کی صدارت میں ایگزیکٹو کونسل نے منگل کو یہ فیصلہ کیا تھا۔

کل طالب علموں کی ایک جماعت نے پروفیسر اپا راؤ کی چھٹی سے واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے وائس چانسلر کی رہائش گاہ اور دفتر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اپا راؤ روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد چھٹی پر چلے گئے تھے۔

اسی بارے میں