’دکانوں سے زیادہ لائبریریوں کی ضرورت ہے‘

Image caption شتابدی مشرا اور اکشے راوتارے آج کل اپنی منی وین میں 10 ہزار کلومیٹر کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔ اس سفر میں ان کے ساتھ چار ہزار کتابیں بھی ہیں

عموما سفر کے دوران ہم آپ کتنی کتابیں لے کر نکلتے ہیں؟ آپ کا ریکارڈ چاہے جو بھی ہو لیکن آپ شتابدی مشرا اور اکشے راوتارے کو اس معاملے میں پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔

شتابدی مشرا اور اکشے راوتارے آج کل اپنی منی وین میں 10 ہزار کلومیٹر کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔ اس سفر میں ان کے ساتھ چار ہزار کتابیں بھی ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دونوں ایک مشن پر ہیں۔ ان کا مقصد شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں کتاب پڑھنے کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق زیادہ سے زیادہ انڈیا کے باشندوں کو کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہے۔

دونوں دوستوں نے اپنے سفر کا آغاز دسمبر 2015 میں شمال مشرقی ریاست اڑیسہ کے دارالحکومت بھونیشور سے کیا تھا۔

بی بی سی کی ٹیم نے ان دونوں سے ریاست اتر پردیش میں ملاقات کی۔ شتابدی مشرا اور اکشے راوتارے کی جوڑی کا یہ سولہواں پڑاؤ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اپنے سفر کے دوران دونوں سینکڑوں لوگوں سے ملے، ان میں مصنف اور کتاب کے شائقین سے لے کر پہلی بار کتاب خریدنے والے لوگ شامل تھے

دونوں نے اپنے سفر کو تھکاوٹ سے بھرا ہوا بتایا لیکن کہا ’ہم اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں كامیاب رہے۔‘

اپنے سفر کے دوران دونوں سینکڑوں لوگوں سے ملے۔ ان میں مصنف اور کتاب کے شائقین سے لے کر پہلی بار کتاب خریدنے والے لوگ شامل تھے۔

شتابدی مشرا نے بتایا ’ہم نے اب تک 2000 کتابیں فروخت کی ہیں۔ ہم بڑے شہروں میں اپنی کتابوں کا سٹاک پورا کر لیتے ہیں۔‘

لیکن کتابیں فروخت کرنا ان کی پہلی ترجیح نہیں تھی۔ انھوں نے کتابیں ادھار بھی دیں ہیں۔ ان کی پہلی ترجیح لوگوں کو پڑھنے کی اہمیت کے بارے میں بتانا تھا اور پڑھنے کے لیے رغبت دلانا تھا۔

راوتارے کہتے ہیں ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کیا کچھ ہو رہا ہے، عدم برداشت کی بات ہو رہی ہے۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ کتابیں پڑھنے سے ذہن کھلتا ہے اور آپ دوسرے خیالات کی بھی تعریف کر پاتے ہیں۔‘

راوتارے ایک سکول کے ٹیچر کا ذکر کرتے ہیں ’بیس سال سے استاد ہونے کے باوجود انھوں نے صرف 15-20 کتابیں پڑھي تھیں، وہ بھی صرف اپنے نصاب کی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ یہ ایک مسئلہ ہے۔ اساتذہ کو اپنے شاگردوں سے زیادہ پڑھنا چاہئے، اپنے موضوع سے الگ بھی پڑھنا چاہئے۔ ہمیں شاپنگ مال سے زیادہ لائبریریوں کی ضرورت ہے لیکن ہو الٹا رہا ہے۔‘

شتابدی مشرا کے مطابق کتابیں مہنگی ہو چکی ہیں اور کتابوں کی دکانیں تیزی سے بند ہو رہی ہیں۔

شتابدی مشرا کہتی ہیں ’چھوٹے شہروں میں صورت حال اور بھی سنگین ہے۔ کئی جگہوں پر تو ایک بھی لائبریری نہیں ملی۔ ایسا نہیں ہے کہ لوگ پڑھنا نہیں چاہتے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے کتابیں ہی دستیاب نہیں ہیں۔‘

راوتارے اور مشرا اس صورت حال میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ یہ دونوں بھونیشور میں کتاب کی ایک دکان بھی چلاتے ہیں۔

شتابدی کہتی ہیں ’ہم پورے سال 20 سے 30 فیصد کی رعایت دیتے ہیں کیونکہ ہمارا سٹور عام ہے اور ہمارا خرچہ زیادہ نہیں ہے۔ نہ تو ایئر کنڈیشنر ہے اور نہ ہی بجلی۔ ہم سولر پاور استعمال کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کو وہ جگہ بھی مہیا کراتے ہیں جہاں وہ سارا دن بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں، وہ بھی مفت میں۔‘

ان کی منی وین انگریزی اور دوسری دیگر زبانوں کی کتابوں سے بھری ہوئی ہے۔ راوتارے بتاتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ لوگ اپنی زبان میں کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ علاقائی زبان میں لکھنے والے مصنفین کی آمدنی بڑھے گی اور صورت حال بہتر ہوگی۔‘

راوتارے کے مطابق بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے کتابوں کو دور دراز والے ایک حصے تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ایک ملک کے طور پر ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کے بارے میں زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف پڑھنے سے ممکن ہو جائے گا۔ ان دنوں ہم عجیب صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

راوتارے کہتے ہیں ’امیر لوگ غریبوں کے بارے میں لکھ رہے ہیں لیکن غریب لوگ ان کے کام کو پڑھ نہیں پاتے ہیں۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی یہ ہماری چھوٹی کوشش ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کتابیں فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں