چینی صدر کے ’استعفے کا مطالبہ‘ کرنے والے صحافی رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Apple Daily
Image caption جن افراد کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں سب سے نمایاں کالم نگار ییا تھے

چین میں انٹرنیٹ پر ملک کے صدر شی جن پنگ کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے صحافی کو پولیس نے رہا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جیا جیا نامی صحافی کو مارچ کے اوائل میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب انھوں نے انٹرنیٹ پر ایک پٹیشن جاری کی تھی جس میں ان کا مطالبہ تھا کہ صدر شی جن پِنگ کو استعفے دے دینا چاہیے۔

’چینی صحافی جیا جیا بیجنگ پولیس کی حراست میں‘

جیا جیا کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کے کالم نگار مؤکل کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ جب چاہیں گھر واپس جا سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مسٹر جیا کو جس معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا اس کی بڑے پیمانے پر تفتیش کی جا رہی ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر جو اپیل شائع کی گئی تھی اس میں صدر شی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مسٹر جیا کا مذکورہ خط تھوڑی ہی دیر کے لیے چینی حکومت کی ایک ویب سائٹ پر نمودار ہوا تھا اور بظاہر حکام نے اسے جلد ہی وہاں سے ہٹا دیا تھا۔

’کمیونسٹ پارٹی کے وفادار ارکان‘ کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں صدر شی پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے کئی سیاسی، معاشی اور سفارتی فیصلے غلط تھے اور یہ کہ صدر ’شخصیت پرستی‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مخالفین کا الزام ہے کہ صدر شی پارٹی کی بجائے ’شخصیت پرستی‘ کو فروغ دے رہے ہیں

’ہم نہیں سمجھتے کہ کامریڈ شی پِنگ مستقبل میں کمیونسٹ پارٹی اور ملک کی قیادت کرنے کے اہل ہیں۔‘

دوسری جانب مسٹر جیا کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی اپیل کا مسٹر جیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسٹر جیا کے دوستوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مسٹر ییا منظر سے اس لیے غائب ہو گئے تھے کہ انھوں نے اپنے مدیر کو بتایا تھا کہ اس قسم کا ایک خط ان کی ویب سائٹ ’ووجی نیوز‘ پر شائع ہوا ہے، تاہم خود مسٹر ییا کا اس خط سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ ویب سائٹ گزشتہ برس شروع کی گئی تھی اور اس کا مقصد وسطی ایشیا کے راستوں سے چینی معیشت کو فروغ دینا تھا۔

مسٹر جیا کے علاوہ اس ویب سائٹ کو تکنیکلی مدد فراہم کرنے والے عملے کے سات افراد کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی منظر سے غائب ہیں۔

حالیہ عرصے میں چین میں حکومت مخالف کارکنوں، صحافیوں اور وکلاء پر سختی میں اضافہ ہوا ہے اور ایسی کئی اطلاعات ملی ہیں جہاں اس قسم کے افراد پر سینسر کی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

تاہم چین میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مسٹر جیا اور کئی دیگر افراد کی حراست سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر شی کی جانب سے سختی کے باوجود حکومت مخالف افراد اپنی آواز لوگوں تک پہنچانے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

اسی بارے میں