اپنی ہی سر زمین پر گمنامی

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption کشمیری پنڈتوں کو شادی و غم کی رسوم کی ادئیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے

بھارت کے زیر انتظام سری نگر کے ایک گھر کی ایک بالکنی میں چار کشمیری دوست، دو ہندو اور دو مسلمان، سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں وادیِ کشمیر سے تقریباً تین سے چار لاکھ پنڈتوں کی نقل مکانی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

قہوے کے کئی ادوار کے درمیان بحث تیز ہوتی جا رہی تھی۔ سامنے ایک مندر پر شام کی ڈھلتی دھوپ نے اس پرانی عمارت کے تازہ پلاسٹر کو مزید اجاگر کر دیا تھا۔ زوردار بحث آس پاس کے سکون میں مخل ہو رہی تھی۔ ایک طرح سے یہ گفتگو اس بات کی علامت تھی کہ اب وادی میں خوف کا ماحول نہیں ہے۔ انتہا پسندی جب عروج پر تھی تو ایسی محفل ناممکن تھی۔

دونوں مسلم کشمیریوں کے مطابق بڑے پیمانے پر یہ نقل مکانی ایک افسوسناک تاریخی واقعہ تھا۔ لیکن ان کے مطابق اس کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عائد کرنا درست نہیں کیونکہ بندوق کے آگے وہ بھی کشمیری پنڈتوں کو روکنے میں ناکام تھے۔

مندر کی حفاظت کرنے والے مہاراج پنڈت اور ان کے ایک معروف کشمیری پنڈت دوست سنجے ٹكّو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ کسی کو مورِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں لیکن انھیں دکھ اس بات کا تھا کہ کشمیری مسلم اس اجتماعی غلطی کو قبول کرنے کے لیے اب بھی تیار نہیں۔

کشمیر کی مسلح بغاوت کو 27 سال ہو چکے ہیں۔ تشدد نے وادی کی معیشت کو نیست نابود اور اس کی سیاست کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی ہندو مسلم سماجی ہم آہنگی کو بھی ختم کر دیا تھا۔

Image caption کشمیر کے ٹکّو خاندان نقل مکانی نہ کرنے والوں میں شامل ہیں

چند شدت پسند تنظیموں نے کشمیری ہندوؤں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، ان کے گھروں کو آگ لگا دی اور مردوں پر گولیاں چلائی تھیں، ان کے مندر بھی توڑ ڈالے تھے۔ اس کے نتیجے میں ہندو کشمیریوں کو راتوں رات وادی چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ اس نقل مکانی کو کشمیری پنڈت نسل کشی کہتے ہیں۔ کوئی جموں جا کر رہنے لگا تو کسی نے دہلی کا رخ کیا۔

مہاراج پنڈت اور سنجے ٹكّو وہاں رہ جانے والے چند ہزار کشمیری ہندوؤں میں سے ہیں جو وادی چھوڑ کر کہیں نہیں گئے۔ آج وادی میں کشمیری ہندوؤں کو تلاش کرنا مشکل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق فی الحال وادی میں کشمیریوں کی آبادی تین ہزار سے پانچ ہزار کے قریب ہے جو تقریبا 185 مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وادی کی کل آبادی 70 لاکھ کے قریب ہے۔

سنجے ٹكّو کو آسانی سے ڈھونڈا جا سکتا ہے کیونکہ وہ معروف سماجی کارکن ہیں۔ ان کے مطابق آج ان کے محلے میں صرف دو کشمیری پنڈت خاندان رہتے ہیں جبکہ تشدد کی لہر سے قبل 35 خاندان وہاں آباد تھے۔

لیکن سرینگر سے 68 کلومیٹر دور کولگام کے بھٹ خاندان کو تلاش کر پانا آسان نہیں تھا۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

Image caption منوج پنڈتا پولیس افسر اور مصنف ہیں

بھٹ خوفناک اور لمبی راتوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’میرے بچے اس وقت چھوٹے تھے۔ میں رات بھر جاگ کر گزارتا تھا۔ لگتا تھا اب کوئی حملہ ہونے والا ہے۔‘

وہ راتیں ٹكّو کے لیے بھی خوفناک تھیں۔ ’شروع میں خوف کافی تھا۔ رات میں سناٹا چھایا رہتا تھا۔ اگر بلی گھر پر چھلانگ لگاتی تھی تو لگتا تھا کہ کہیں عسکریت پسند ہمیں مارنے تو نہیں آ گئے۔‘

ٹكّو کہتے ہیں کہ ان دنوں بازار میں انھیں اپنی پہچان بھی چھپاني پڑتی تھی۔

جو کوئی بھی اس وقت وادی سے فرار نہ ہو سکے ان کے کئی اسباب تھے جن میں پیسوں کی کمی سے لے کر اپنی جائے پیدائش سے اٹوٹ رشتے شامل ہیں۔ موہن لال بھٹ جذباتی ہو کر کہتے ہیں: ’میں نے بھولے ناتھ کو قسم دی تھی کہ میں اپنی زمین نہیں چھوڑوں گا اس لیے یہاں سے نقل مکانی نہیں کی۔‘

بھٹ کی دو بیٹوں میں سے ایک کی موت کئی سال پہلے ایک بم دھماکے میں ہو گئی۔ دوسرا بیٹا بےروزگار ہے۔ بیٹی کی شادی ہو چکی ہے۔ خاندان اب پرسکون ہے۔ لیکن افلاس نے اب تک ساتھ نہیں چھوڑا۔ پیسوں کی کمی ہے۔ لیکن گھر اپنا ہے۔

Image caption کلگام کے بھٹ خاندان کے افراد کی مشکلات دوسری ہیں

اب وادی سے نقل مکانی کرنے والوں کو کچھ نئے مسائل کا سامنا ہے۔ مندروں میں پوجا ہو یا شادی و غم کے مواقع کے رسم و رواج کی ادائیگی کے لیے وادی میں پنڈت نہیں ملتے۔ بہت مندر اسی لیے بند پڑے ہیں۔ خاص مواقع پر پنڈتوں کو جموں سے بلایا جاتا ہے۔

شادیوں میں بھی مشکلات آ رہی ہیں۔ سنجے ٹكّو کے مطابق وادی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 900 ہے جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پنڈتا کی تین بیٹیاں ہے۔ تمام شادی کی عمر کی ہیں لیکن کشمیری ہندو معاشرے میں لڑکے اتنے کم ہیں کہ اچھے رشتے ملتے ہی نہیں۔

کشمیری پنڈت کہتے ہیں ان کے بچوں کی تعلیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کماری رومي جي گنجو 28 سال کی ہیں۔ ان کی ایک تین سال کی بیٹی ہے۔ وہ کہتی ہیں وہ اپنی بچی کو مقامی سکول نہیں بھیجنا چاہتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہاں انھیں قرآن پڑھایا جاتا ہے۔ ان کی نند کے تین بچے ہیں۔ سب سے بڑا چھ سال کا ہے۔ انھیں بھی بچوں کو قرآن کی تعلیم منظور نہیں۔ ان دونوں عورتوں کا ارادہ ہے کہ بچے جب تھوڑے اور بڑے ہوں تو انھیں جموں بھیج دیا جائے۔ وہ کہتی ہیں: ’ہمیں تو جو کچھ جھیلنا تھا جھیل لیا اب بچوں کے مستقبل سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔‘

Image caption بھٹ خاندان کی خواتین تعلیم کے بارے میں متفکر ہیں

منوج پنڈتا پولیس افسر بھی ہیں اور مصنف بھی۔ انھوں نے کشمیر کے مسئلے پر اردو میں ایک ناول لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں تعلیم اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ منوج پنڈتا نے کہا: ’ہم نے بھی سکول میں اسلام کی تعلیم حاصل کی ہے۔ آپ کسی سکول میں جائیں مذہب کے بارے میں پڑھنا پڑتا ہے۔‘

کشمیری ہندو برادری کو ان تمام مسائل سے بھی بڑے ایک سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ ان کا رشتہ اپنے نقل مکانی کرنے والے کشمیری بھائیوں سے کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یہاں کے کشمیری کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی کشمیریت، اپنی ثقافت نہیں چھوڑی۔ لیکن انھیں افسوس ہے کہ جموں اور دہلی میں رہنے والے کشمیری اپنی ثقافت بھولتے جا رہے ہیں۔ ان کی جڑیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔

منوہر لال گامي سنہ 1998 میں اپنے گاؤں سے نقل مکانی کرکے سرینگر میں آ کر بس گئے۔ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے تعمیر کردہ ان گھروں میں سے ایک میں رہتے ہیں جو کشمیری پنڈتوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ایک مقامی اردو اخبار میں کام کرنے والے وہ اکیلے ہندو ہیں۔

Image caption منوہر لاگامی اردو اخبار میں کام کرنے والے واحد ہندو ہیں

لال گامي پہلے بھی نڈر تھے آج بھی ہیں۔ پہلے بھی ’منہ پھٹ‘ تھے، آج بھی ہیں۔ ان کے دوٹوك انداز کی وجہ سے مسلم برادری میں ان کی کافی قدر ہے۔ وہ ان کشمیریوں کا درد سمجھتے ہیں جو کشمیر واپس لوٹ چکے ہیں یا لوٹنا چاہتے ہیں۔

’میں اپنوں میں بھی بیگانہ محسوس کرتا ہوں۔ وہ اپنے گاؤں کے اس گھر کو نہیں بھولتے جو مسلمانوں سے گھرا تھا لیکن تھا تو اپنا۔‘

لال گامي کے خیال میں کشمیری پنڈتوں اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان سماجی اور ثقافتی سطح پر تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ مسئلہ صرف سیاسی ہے۔

کم تعداد کے سبب مقامی کشمیری ہندو ووٹ بینک نہیں بن سکتے اور اسی لیے وہ سیاسی اعتبار سے بااختیار نہیں ہیں۔ لیکن جہاں تک اپنی جائے پیدائش پر زندگی گزارنے کے حق کا سوال ہے تو کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں