دارالعلوم دیوبند کا ’بھارت ماتا کی جے‘ کے خلاف فتویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت میں مدرسہ دارالعلوم دیوبند نے’بھارت ماتا کی جے‘ کہنے کے خلاف فتویٰ جاری کر دیا ہے۔

بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے کی بحث میں درس گاہ دارالعلوم دیوبند شامل ہوگیا ہے۔

*’بھارت میں رہنا ہے تو جے ماتا دی کہنا ہے‘

دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جاری کیے جانے والے فتوے میں مسلمانوں سے کہاگیا ہے کہ وہ اس نعرے سے باز رہیں کیونکہ یہ بتوں کی پوجا کے مترادف ہے جو کہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ انھیں نعرے کے مسئلے کے بارے میں ہزاروں کی تعداد میں سوالات پوچھےگئے اور دارالعلوم دیوبندنے فتویٰ جاری کیا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنا اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

دارالعلوم دیوبند نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں اپنے ملک سے محبت ہے اور ہم’ ہندوستان زندہ آباد‘ جیسے نعرے لگا سکتے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تعلقات عامہ کے افسر عشرم عثمانی کے مطابق اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں کہ کسی ملک کی دیوئی یا بت کے طور پر نمائندگی کی جائے اور اس کی شان میں نعرے بلند کیے جائیں۔

خیال رہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ایک بیان پر تنازع پیدا ہوگیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کہ ملک میں حب الوطنی کو بڑھانے کے لیے اس نعرے کی ضرورت ہے۔

تاہم اس کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ انھیں اپنے ملک سے بے پناہ محبت ہے لیکن وہ اپنی حب الوطنی کے اظہار کے لیے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔

اس کے جواب میں حکمراں جماعت بی جی پی کے جنرل سیکرٹری کیلاش وجے وارگیا کا کہنا تھا کہ جو بھی ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں کہہ سکتا اسے بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں ریاست مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کو بھارت ماتا کی جے بولنے سے انکار پر اسمبلی سے معطل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں